پاکستانمتفرق

راجہ پرویز اشرف کا سوشل میڈیا کیلئے حدودقیود مقررکرنے کا مطالبہ

بہتان لگانا بہت بڑا گناہ ہے، میرے اوپر جو گزری ہے میں نے سہہ لی، لیکن دوسرے ساتھی اس کا شکار نہ ہوں،اسمبلی میں خطاب

اسلام آباد۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 18 تاریخ کو ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا جس میں ڈرگ سپلائی کے الزام میں گرفتار ایک خاتون نے ان کا نام لیا، تاہم بعد میں ایک اور کلپ سامنے آیا جس میں وکیل نے وضاحت کی کہ خاتون پر راجہ پرویز اشرف کا نام لینے کے لیے دبا¶ ڈالا جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسپیکر قومی اسمبلی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا، جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما¶ں نے بھی اس عمل کو نامناسب قرار دیا۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ انہوں نے بے داغ سیاسی زندگی گزاری ہے اور کسی سیاستدان پر الزام لگنے کے بعد میڈیا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ“بہتان لگانا بہت بڑا گناہ ہے، میرے اوپر جو گزری ہے میں نے سہہ لی، لیکن دوسرے ساتھی اس کا شکار نہ ہوں۔”انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا کے لیے بھی حدود و قیود مقرر کی جائیں تاکہ بغیر ثبوت الزامات لگانے کا سلسلہ روکا جا سکے۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ سب لوگ راجہ پرویز اشرف کو جانتے ہیں اور اس معاملے پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ“کل فون کیا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا تھا۔”اسپیکر نے کہا کہ ماضی میں بھی اسمبلی کی حدود میں ایک وی لاگر کی جانب سے ایک وزیر پر الزامات لگانے پر کارروائی کی گئی تھی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈرگز نوجوانوں اور بچوں تک پہنچ رہی ہیں اور اس مسئلے پر تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر حکمت عملی بنانا ہوگی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پورا ایوان راجہ پرویز اشرف کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی انکوائری کی جائے گی کہ وکیل نے یہ بیان کیوں دیا اور اس حوالے سے ایوان کو رپورٹ بھی پیش کی جائے گی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button