سینٹرل کرم میں خوارج کے دو گروہوں میں خونریز جھڑپ، 18 دہشتگرد ہلاک
فتنہ الخوارج کے مختلف دھڑوں کے درمیان اس نوعیت کی جھڑپیں ماضی میں بھی کئی مرتبہ ہو چکی ہیں، اہل علاقہ

کرم۔ ضلع کرم کے علاقے سینٹرل کرم میں فتنہ الخوارج کے دو گروہوں کے درمیان مبینہ بھتہ خوری کے تنازع پر شدید مسلح تصادم کے نتیجے میں کم از کم 18 دہشتگرد ہلاک جبکہ متعدد لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ شب حدودِ تھانہ چینارک کے علاقے مناتو میں فتنہ الخوارج کے کاظم گروپ اور ممتاز امتی گروپ کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ اطلاعات کے مطابق جھڑپوں میں ممتاز امتی گروپ کے 18 خوارج مارے گئے جبکہ 3 افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ کاظم گروپ کا ایک کارندہ بھی مارا گیا جبکہ ایک اور لاپتہ ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مناتو کے علاقے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کیلئے قبروں کی کھدائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کے مختلف دھڑوں کے درمیان اس نوعیت کی جھڑپیں ماضی میں بھی کئی مرتبہ ہو چکی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عناصر کسی نظریاتی یا مذہبی مقصد کے بجائے ذاتی مفادات، بھتہ خوری اور اثرورسوخ کی جنگ میں مصروف ہیں۔
مقامی آبادی کے مطابق ان اندرونی لڑائیوں نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔سیکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خوارج گروہوں کے درمیان تصادم اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر اقتدار، مالی مفادات اور بالادستی کی جنگ میں ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق علاقے کے عوام کو دہشتگرد عناصر کے خلاف ریاستی اداروں کی کارروائیوں پر مکمل اعتماد ہے



