افغانستان سے جوہری دہشت گردی کا خطرہ بڑھ گیا،اقوام متحدہ کا انتباہ
طالبان حکومت کے زیر سایہ سرگرم دہشت گرد تنظیمیں عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار، القاعدہ تک تابکار مواد پہنچنے کا خدشہ

نیو یارک ۔ اقوام متحدہ نے افغانستان سے ممکنہ جوہری دہشت گردی کے خطرے سے متعلق عالمی برادری کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طالبان حکومت کے زیرِ سایہ سرگرم دہشت گرد تنظیمیں دنیا بھر کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز کی رپورٹ کے مطابق تاجکستان سے چوری ہونے والی یورینیم ڈائی آکسائیڈ کی 133 گولیاں افغانستان میں موجود القاعدہ کے عناصر کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس سے جوہری دہشت گردی کے امکانات میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ ماضی میں متعدد بار جوہری دہشت گردی کے عزائم ظاہر کر چکی ہے، جبکہ مختلف واقعات میں تابکار مواد کی اسمگلنگ اور چوری کے شواہد بھی سامنے آتے رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر کے مطابق موجودہ دور میں جوہری دہشت گردی کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر فوری اور مو¿ثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے دوران افغانستان مختلف عالمی دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی، غیر ملکی جنگجوو¿ں اور شدت پسند نیٹ ورکس کی موجودگی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اقوام متحدہ، امریکہ، پاکستان، یورپی ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستیں پہلے ہی افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی کو عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دے چکی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت عالمی تعاون اور مو¿ثر نگرانی نہ کی گئی تو افغانستان سے ابھرنے والا جوہری دہشت گردی کا خطرہ خطے سمیت پوری دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔




