بین الاقوامیمتفرق

افغانستان فریڈم فرنٹ نے “سپرنگ گوریلا آپریشنز” شروع کر دیے

بدخشان میں طالبان ٹھکانوں پر حملے تیز، مزاحمتی تنظیم کا افغانستان کو غاصبانہ تسلط سے آزاد کرانے کا اعلان

کابل۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف داخلی مزاحمتی تحریکوں میں تیزی آنے لگی ہے، جبکہ “افغانستان فریڈم فرنٹ” نے طالبان کے خلاف “سپرنگ گوریلا آپریشنز” کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے شمالی صوبے بدخشاں میں حملے تیز کر دیے ہیں۔

مزاحمتی تنظیم کی جانب سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے ٹھکانوں پر حالیہ حملے افغانستان کوغاصبانہ تسلط سے آزاد کرانے کی جدوجہد کا حصہ ہیں۔اعلامیے کے مطابق حالیہ عسکری ناکامیوں کے بعد طالبان حکومت شدید دباو¿ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے، جس کے باعث وہ مبینہ طور پر پروپیگنڈا مہم تیز کر رہی ہے۔

افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ گوریلا کارروائیوں اور اندرونی بغاوت کے خدشات کے پیش نظر طالبان حکومت اپنے ہی ارکان کے خلاف کریک ڈاو¿ن اور گرفتاریاں کر رہی ہے، جو تنظیم کے بقول طالبان صفوں میں بڑھتے خوف اور بداعتمادی کی عکاسی کرتا ہے۔

مزاحمتی تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ افغان عوام کو ان کے مستقبل اور وطن پر دوبارہ حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔عالمی ماہرین کے مطابق افغانستان میں بڑ ھتی مزاحمتی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ طالبان حکومت کو اندرونی سطح پر نئے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی نے ملک کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے اپنے ہی ارکان کی مبینہ گرفتاریاں اندرونی اختلافات، بداعتمادی اور مزاحمتی کارروائیوں کے خوف کو ظاہر کرتی ہیں۔ماہرین کے مطابق افغانستان میں جاری سیاسی و عسکری کشیدگی نہ صرف داخلی استحکام بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے بھی اہم چیلنج بن سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button