پاکستان

سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوگا،انٹراکورٹ اپیلیں منظور

اکثریتی فیصلہ 5-2 کی تناسب سے دیا گیا،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر نے اختلاف کیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سویلین کے فوجی ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیلیں منظور کرلیں اورفوجی عدالتوں کوسویلینزکے ٹرائل کی اجازت دے دی ہے۔سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی ائینی بینچ نے مختصر فیصلہ سنا دیا۔انٹرا کورٹ اپیلیں 2-5 کی اکثریت سے منظور کی گئی ہیں، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔فیصلہ دینے والے ججوں میں جسٹس امین الدین خان ،جسٹس مسرت ہلالی ،جسٹس محمدعلی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اورجسٹس شاہد بلال حسن نے متفقہ فیصلہ دیاہے۔جس میں کہاگیاہے کہ فیصلے کی وجوہات بعدمیں جاری کی جائیں گی۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی ا?ئینی بنچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، سپریم کورٹ نے 5مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے 5رکنی بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیاعدالت نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو درست قرار دیدیا، عدالت نے آرمی ایکٹ کی کالعدم قرار دی جانیوالی شقیں بحال کردیں،عدالت نے آرمی ایکٹ کو اس کی اصل شکل میں بحال کردیا۔

آرمی ایکٹ کی تینوں شقیں ٹوون ڈی، ٹو ڈی ٹو اور 59فور بحال کردی گئیں۔فوجی عدالتوں کے فیصلے کیخلاف اپیل کا حق دینے کیلئے معاملہ حکومت کو بھجوا دیا گیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت 45دن میں اپیل کا حق دینے کے حوالے سے قانون سازی کرے،ہائیکورٹ میں اپیل کا حق دینے کیلئے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی جائیں۔واضح رہے کہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پرمشتمل سات قائم آئینی بینچ نے پیرکو آخری سماعت کی تھی اور اس دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل کا آغاز کیا اور 9 مئی کے ملک گیر پرتشدد واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 9 مئی کو دن تین بجے سے شام تک ملک بھر میں 39 مقامات پر حملے ہوئے، جن میں جی ایچ کیو، لاہور میں کور کمانڈر ہاو¿س، ایئر بیس میانوالی اور آئی ایس آئی کے دفاتر شامل ہیں۔

پنجاب میں 23، خیبر پختونخوا میں 8، سندھ میں 7 جبکہ بلوچستان میں ایک واقعہ پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے اتفاقیہ نہیں تھے، بلکہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے، اور اگر اس روز لاہور پر بیرونی جارحیت ہوتی تو ہم جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا فوج نے اپنے کسی افسر کے خلاف فوجداری کارروائی کی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کور کمانڈر لاہور سمیت تین اعلیٰ افسران کو بغیر پنشن کے ریٹائر کیا گیا جبکہ 14 افسران کی کارکردگی پر ناپسندیدگی اور عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ تو واضح کرتا ہے کہ محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری سزا بھی دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button