بچوں کی تربیت اور ڈیجیٹل دور کے چیلنجز: اے آئی کا کردار
ہم اپنی مصروفیات یا تھکن کے باعث، بچوں کو خاموش کرانے کے لیے ان کے ہاتھ میں اسکرین تھما دیتے ہیں

تحریر: میر عطا اللہ بنگلزئی
ای میل: cau@gmail.com
ایک روشن مستقبل کی دہلیز پر کھڑے ہو کر جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو ایک طرف وہ حیرت انگیز دنیا ہے جہاں مصنوعی ذہانت انسانیت کے پیچیدہ ترین مسائل حل کر رہی ہے، اور دوسری طرف ایک تاریک کمرے میں اکیلا بیٹھا وہ بچہ ہے جس کی معصوم آنکھیں موبائل کی اسکرین میں قید ہو کر رہ گئی ہیں۔ کیا ہم ترقی کی اس دوڑ میں اپنی نسلِ نو کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں؟ یا شاید ہم انہیں ایک ایسے ڈیجیٹل نشے کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کا انجام صرف تنہائی، بے چینی اور ذہنی پراگندگی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موبائل فون آج کے مصروف والدین کے لیے ایک عارضی پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ہم اپنی مصروفیات یا تھکن کے باعث، بچوں کو خاموش کرانے کے لیے ان کے ہاتھ میں اسکرین تھما دیتے ہیں۔ شروع میں یہ محض چند منٹوں کا مشغلہ ہوتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ یہ معصوم عادت ایک ایسی لت بن جاتی ہے کہ بچہ اب کھانا بھی اسی اسکرین کو دیکھ کر کھاتا ہے اور سوتا بھی اسی کی مصنوعی روشنی میں ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہم سے پہلی غلطی سرزد ہوتی ہے۔ ہم بچے کو اپنا وقت دینے کے بجائے اسے ایک بے جان مشین کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر یہ امید رکھتے ہیں کہ اس کی تربیت مثالی ہوگی۔
تربیت کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ بچہ وہ نہیں کرتا جو ہم اسے کہتے ہیں، بلکہ وہ وہ کرتا ہے جو وہ ہمیں کرتے دیکھتا ہے۔ اگر والدین خود گھنٹوں موبائل میں مگن رہیں اور بچے کو نظم و ضبط کا درس دیں، تو یہ کبھی اثر انداز نہیں ہوگا۔ علم اور کتاب سے محبت کی بہترین مثال ہمیں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کی زندگی میں ملتی ہے۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے بچپن سے اپنے والد محترم ڈاکٹر فرید الدین قادری صاحب کو دیکھا کہ وہ ہمہ وقت کتابوں کے مطالعے اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے تھے۔ اسی علمی ماحول کا اثر تھا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کے اندر کتابوں سے وہ والہانہ عشق پیدا ہوا کہ انہوں نے محض بائیس سال کی عمر میں اپنی پہلی معرکہ الآراء کتاب ‘الاعتصام’ لکھ ڈالی۔ آج ان کی تصانیف کی تعداد بارہ سو سے تجاوز کر چکی ہے، جو کہ انسانی عقل کے لیے ایک معجزہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کی اصل بنیاد وہ تربیت تھی جو انہیں گھر کے علمی ماحول اور اپنے والد محترم ڈاکٹر فرید الدین قادری صاحب کی شخصیت سے ملی۔
اسی طرح محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے بھی ہمیشہ اپنی کامیابی کا سہرا اپنی والدہ کی بہترین تربیت اور والد کے سکھائے ہوئے اصولوں کے سر باندھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچپن میں دی گئی محنت اور دیانت کی تربیت نے ہی انہیں ملک کے لیے بڑے فیصلے کرنے کے قابل بنایا۔ میں نے ایک بار ٹی وی پر ایک دستاویزی فلم میں دیکھا کہ ایک غیر ملکی شخص اپنے ننھے سے بچے کو تیراکی کی تربیت دے رہا تھا۔ وہ بچہ پانی کی لہروں سے اس مہارت سے کھیل رہا تھا کہ دیکھ کر عقل دنگ رہ جائے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہم بچپن سے ہی کسی مثبت شوق، ہنر یا علم کی آبیاری کریں، تو بچہ اس میں وہ مقام حاصل کر لیتا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
آج کی دنیا بدل رہی ہے، ہمیں اپنے بچوں کو موبائل کی قید سے نکال کر جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے تعمیری رخ کی طرف لانا ہوگا۔ لیکن یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہم ان کے ساتھ ایک دوستانہ رشتہ استوار کریں۔ تربیت کا مطلب سخت پابندیاں نہیں، بلکہ ایک ایسا محبت بھرا ماحول ہے جہاں بچہ نظم و ضبط کو بوجھ نہ سمجھے۔ ہمیں انہیں وقت دینا ہوگا، ان کی باتیں سننی ہوں گی اور انہیں جدید دنیا کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا ہوگا




