اہم خبریںپاکستان

رواں سال پاکستان نے نمایاں معاشی اور سفارتی کامیابیاں حاصل کیں، وزیر خارجہ

خطے میں پائیدار امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، ملک کا دفاع مضبوط ، پاکستان کو اب معاشی قوت بنائیں گے ، سالانہ نیوز بریفنگ

اسلام آباد ۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان نے معاشی اور سفارتی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ معرکہ حق میں پاک فوج کے ہاتھوں بھارت کو عبرتناک شکست کے بعد ملک کا عالمی سطح پر وقار بلند ہوا ۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت ملی ، سعودی عرب ، چین ، یو اے ای ،سمیت متعدد ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوے ۔ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں جمود ٹوٹا ، خطے میں پائیدار امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے ۔

سالانہ نیوز بریفنگ کے دوران انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر کے دورہ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوے کہا یو اے ای کے صدر نے اعلی سطح کے وفد نے گذشتہ روز پاکستان کا دورہ کیا۔ اس حوالے سے دفتر خارجہ نے آفیشل اعلامیہ بھی جاری کیا ۔

صدر متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے دورہ کا وعدہ کیا تھا۔یو اے ای کے صدر کا دورہ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے میں معاون ہو گا ۔ دورے کے دوران دو طرف تجارت ، سرمایہ کاری ،توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی ۔ موجودہ اعلی قیادت کے درمیان ملاقاتوں اور معاشی وتجارتی تعاون کے معائدوں نے تعلقات کو نئی سمت دی ہے ۔

دونوں مما لک کے درمیان مختلف تجارتی اور سرمایہ کاروں کے معائدوں پر دستخط کئے گئے ہیں ۔ جن میں ، توانائی ، بنیادی ڈ ھانچے ، بندرگاہوں ، قابل تجدید توانائی ، بینکنگ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے شامل ہیں سرکاری دورہ مکمل کرکے اب صدر یو اے ای رحیم یار خان میں نجی دورہ پر ہیں ۔

انہوں نے کہا متحدہ عرب مارات کیساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں ۔ متحدہ عرب امارات نے مشکل مالی بحران میں تین بلین ڈالرز کی سپورٹ کی۔ جبکہ جنوری میں دو بلین ڈالر کو رول اوور کر دے گا۔

متحدہ عرب کا ایک بلین ڈالر فوجی فاونڈیشن میں سرمایہ کاری کی مد میں ضم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا رواں سال پاکستان نے سفارتی محاذ پر بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ جب اقتدار سنبھالا گیا تو کہا گیا پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔

اب پاکستان کی سفارتی محاذ پر کیا پوزیشن ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ بھارت کیساتھ چار دن کی جنگ میں دنیا کو پاکستان کا مضبوط پیغام گیا ۔ جنگ سے پہلے دنیا بھارت کو ایک طاقت سمجھتی تھی۔ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے کسی ملک کو صلح صفائی کا نہیں کہا۔

معرکہ مرصوص میں بھارت کے خلاف شاندار فتح ملی ، پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا ۔ ہمارے شاہینوں نے بھارت کے سات لڑاکا طیارے مار گرائے۔ بھارت کے 79 ڈرون کو بھی پاکستان نے مار گرایا۔ جنگ سے قبل اور بعد میں پاکستان مکمل طور پر متحرک رہا۔ انہوں نے کہا پلوامہ کے واقعہ پر بھارت نے پاکستان کیخلاف بیانیہ بنایا۔

بھارت نے پلوامہ کیساتھ جموں کشمیر سے متعلق آئین کو تبدیل کیا۔پہلگام کا واقعہ کے بعد بھارتی جارحیت بھی ایک سوچ لگتی ہے۔ انڈیا نے نور خان بیس پر حملہ کرکے دوبارہ غلطی کی۔ سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں تمام فیصلے لیے جا چکے تھے۔ ہمیں نور خان ایئر بیس پر حملہ کہ اطلاع میں رات دو ڈھائی بجے ملی۔ جنگ کے دوران میری 60 انٹرنیشنل کالز تھیں۔

پاکستان نے واضع کیا تھا بھارت حملہ کرے گا تو ہم اس کا سخت جواب دیں گے ۔ ہمارا فیصلہ واضع تھا کہ جنگ سے متعلق کچھ چھپایا نہیں جائے گا۔ بھارت نے پاکستان کے ایف سولہ گرانے کا جھوٹا بیانیہ بنایا ۔ 15 مقامات پر حملہ کا بھی جھوٹا بیانیہ بنایا گیا

پاکستان نے بھارت کے حملہ پر جو کاروائی کی اس کو پبلک کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی سے سیز فائر کرانے کا نہیں کہا صبح 8 بجے ہم نے جن سیز فائر کا فیصلہ کر لیا تھا تو آٹھ بج کر 17 منٹ پر مجھے مارکو روبیو کا فون آیا۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت جنگ بندی کا خواہاں ہے ۔ کچھ دیر کے بعد سعودی وزیر خارجہ کا فون آیا۔ پاکستان کا نیٹ سیکورٹی پرووائیڈر کو منترہ پاک بھارت جنگ میں ختم ہو گیا۔ انہوں نے کہا پاکستان کے دفاع کی صلاحیت بھی مضبوط ہے۔

پاکستان نے بھارتی جارحیت پر اپنے دفاع میں صرف اتنا کیا جتنا ضروری تھا ہم اس سے زیادہ بھی کر سکتے تھے ۔ انہوں نے کہا ہمارا بھارتی حملہ پر جواب بڑا متوازن اور کیلکولیٹڈ تھا۔ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ انہوں نے کہا معرکہ حق میں کامیابی کی طرح پاکستان کو اب ہم نے معاشی قوت بھی بنانا ہے ۔ اللہ نے پاکستان کو ایٹمی وقت بنایا میزائل قوت بنایا ۔

پاکستان قدرتی دولت سے مالامال ہے۔ انشاءاللہ پاکستان معاشی قوت بنے گا۔ معاشی وقت بنے گا تو مسلم امہ کی قیادت بھی کرے گا۔ ریکوڈک میں سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خطے کے امن کے لئے مسئلہ کشمیر کے حل کو ناگزیر قرار دیتے ہوے کہا جب تک جموں کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا خطہ میںدائمی امن قائم نہیں ہوگا۔

بھارت نے جموں کشمیر کی ڈیموگریفی تبدیل کرنے کا اقدام اٹھایا۔ لیکن اللہ نے پاکستان کو جو فتح دی ہے کشمیر کا ایشو دوبارہ فلیش ہوا ہے۔ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات ہوئی مسئلہ کشمیر کو عوام کی امنگوں سے حل ہونا ہے۔

کوئی ملک اپنی مرضی سے جموں کشمیر کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا انڈس واٹر ٹریٹی پر بھارت نے ٹریٹی کو معطل کردیا۔ پاکستان نے بھارتی کابینہ کے فیصلوں پر سخت فیصلہ کیا۔ اور بھارت کی ایئر لائنز کیلئے اسپیس بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاک ڈھاکہ تعلقات میں پیشرفت پر بات کرتے ہوے انہوں نے کہا رواں سال بنگلہ دیش کیساتھ تعلقات میں جمود ٹوٹا ہے۔ آخری مرتبہ حنا ربانی کھر نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد اب میں نے بطور وزیر خارجہ بنگلہ دیش کا دورہ کیا۔

بنگلہ دیش میں سیاسی جناعتوں کے رہنماوں کیساتھ ملاقاتیں کیں۔ بنگلہ دیش میں انقلاب لانے والوں اسٹوڈنٹس نے بھی سیاسی جماعت بنا لی ہے۔ اسٹوڈنٹس لیڈرز کیساتھ کیساتھ پاکستان ہائی کمیشن میں ملاقات کی۔

بنگلہ دیش کے دورہ میں ایک گڈ ول کا ماحول پیدا ہوا۔ فروری میں بنگلہ دیش میں انتخابات کے بعد مزید ایکٹیولی پاکستان بنگلہ دیش تعلقات کو لیکر چلے گا۔ پاک امریکہ تعلقات پر انہوں نے کہا نئی امریکی انتظامیہ کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات مثبت رہیں، خاص طور پر ٹریڈ، انویسٹمنٹ اور کاو¿نٹر ٹیررزم تعاون میں۔

امریکہ نے کئی ممالک بشمول سعودی عرب، یو اے ای، قطر، ترکی، ملیشیا، یو کے اور ایران کے ساتھ رابطہ قائم رکھا۔ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو فارن اینٹیٹیز کے طور پر شناخت دینا ایک اہم کامیابی رہی۔ ٹیرف میں کمی اور سٹریٹیجک میڈلز میں سرمایہ کاری کے معاہدے بھی اہم پیش رفت میں شامل ہیں۔ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوے

انہوں نے کہا 4 سال بعد یورپی یونین کے ساتھ سٹریٹیجک ڈائیلاگ برسلز میں ہوا۔ جی ایس پی پلس سے متعلق مسائل اور نئے قوانین زیر بحث آئے۔ دیگر موضوعات میں مائیگریشن، کلائمٹ چینج، ڈیولپمنٹ آپریشنز اور ریجنل و انٹرنیشنل ایشوز شامل تھے۔

انہوں نے کہا باقی دنیا کے کئی حصوں میں بھی پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔ انڈو پیسیفک میں منسٹر فورم کے ذریعے ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے مفادات کو بھی دیکھ رہے ہیں اور اس کو سپورٹ کر رہے ہیں، جہاں کے ممالک جانتے ہیں کہ پاکستان واقعی ایک مستحکم اور قابل اعتماد کردار ادا کرتا ہے۔ پاک چائنہ تعلقات کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوے انہوں نے کہا پاکستان اور چین کے تعلقات مضبوط، مثالی اور عالمی سطح پر قابل تعریف ہیں۔ دنیا تسلیم کرتی ہے کہ ہمارے تعلقات کا کوئی مقابلہ نہیں۔

یہ تعلقات اعلیٰ معیار کے ہیں اور ہر سطح پر تعاون موجود ہے۔ بھارت کے ساتھ ہونے والے تنازعات میں چین کے فارن منسٹر کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ 19 اور 20 مئی کو چین میں ملاقاتیں ہوئیں، تمام امور پر تبادلہ خیال ہوا اور چینی حکام نے پاکستان کی پیشرفت پر مبارکباد دی۔ را فیل کے شیئرز اس دوران 11 ڈالر سے اوپر پہنچ گئے، کیونکہ ہم نے مارکیٹنگ ایجنٹس کی اسٹیبلشمنٹ کی تھی، جس پر چینی حکام بہت خوش ہوئے۔

20 مئی کو افغانستان کے فارن منسٹر کے لیے ملاقات کی حتمی تیاری بھی مکمل کی گئی۔ تینوں ملاقاتیں 19 اور 20 مئی کو مکمل ہوئیں، اور فروری 2025 میں صدر پاکستان چین گئے جبکہ ستمبر میں وزیراعظم صاحب کی بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ 28 اور 29 تاریخ کو میں ہانگ کانگ بھی گیا۔ وہ پاکستان آئے، اگست میں، اور 20 مئی کو طے کیا تھا کہ جو فارمل ٹرائلٹر ہے وہ قابل میں ہوگا، اور ہم دونوں وہاں گئے

اگست میں جب وہ آئے تو پہلے کابل گئے، جہاں انہوں نے اپنا فرسٹ بائیلیٹرل اپ ڈیٹ کیا۔ اس کے بعد میں آو¿ٹ آف کنٹری وزٹ پر تھا۔ نو بجے یہاں پہنچا اور آگے کابل گئے، جہاں ہم نے افٹر نون میں افغانستان، پاکستان اور چین کے امور پر تبادلہ خیال کیا

اس کے بعد وہ پاکستان تشریف لائے۔ چین ہمارا بہت ہی قابل اعتماد اور ٹرسٹڈ ساتھی ہے، اور پاکستان کی حکومت اور ہماری سیاسی پارٹیاں، خصوصاً پیپلز پارٹی، انہیں اتنی ہی اہمیت دیتی ہیں۔

صدر زرداری صاحب نے اپنے پچھلے ٹینور میں کئی بار چین کا دورہ کیا اور ابھی بھی وہ چاہتے ہیں کہ چین ضرور وزٹ کرے۔ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ اگر اچھے دوست کے ساتھ تسلسل سے تعلقات رکھے جائیں تو یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ ہمارے لیے بھی بہت مفید ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button