اسرائیلی فوج کا حماس کے فوجی ہیڈکوارٹر کو تباہ کرنے کا دعویٰ

تل ابیب: اسرائیل نے خان یونس میں حماس کے ایک فوجی ہیڈ کوارٹر کو چھاپا مار کارروائی کے دوران تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ اسرائیلی بمباری میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 60 ہوگئی۔

 اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خان یونس کے قلب میں واقع حماس کے فوجی ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بولا جہاں ملٹری انٹیلی جنس سروس کا خصوصی آپریشن روم بھی موجود تھا۔

ترجمان اسرائیلی فوج کے بقول 98 ویں ڈویژن کے فائر سسٹم نے فضائیہ کے تعاون سے اس علاقے میں مختلف اہداف پر تقریباً 50 فضائی حملے کیے جن میں زیر زمین اہداف اور انفراسٹرکچر شامل ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ فضائی حملوں سے اسرائیل کی برّی فوج کو چھاپا مار کارروائی میں کسی قسم کا مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور یہ آپریشن کامیابی سے سرانجام دے دیا گیا۔

اس حملے سے متعلق اسرائیلی فوج نے ایک ویڈیو بھی نشر کی ہے تاہم حماس کی جانب سے فوجی ہیڈ کوارٹر کو تباہ کرنے کے اسرائیلی دعوے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

اسرائیلی فوج نے اس کارروائی کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حماس کے ملٹری انٹیلی جنس کا یہ آپریشن کنٹرول روم اسرائیل پر حملوں کی منصوبہ بندی اور انھیں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا تھا۔

ترجمان اسرائیلی فوج کے بقول حملے میں فوج کو حساس اور قیمتی دستاویزات ملی ہیں جب کہ اسی مقام سے ایک اور مزاحمتی ونگ ’’اسلامی جہاد‘‘ کا بھی آپریشن روم بھی ملا۔

یاد رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں اسرائیلی فوج کی رہائشی علاقوں پرکی گئی بمباری میں 64 فلسطینی شہید اور 186 زخمی ہوگئے۔ اس طرح 7 اکتوبر سے جاری بمباری میں شہید ہونے والوں کی تعداد 21 ہزار 672 ہوگئی جب کہ 56 ہزار 165 زخمی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں