مذہبی جماعتیں ٹرانس جینڈرز کے حقوق کیخلاف نہیں ہیں: کامران مرتضیٰ

جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعتیں ٹرانس جینڈرز کے حقوق کے خلاف نہیں ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز ٹرانس جینڈرز کے حقوق اور انہیں درپیش خطرات پر سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ٹرانس جینڈرز بل کو سمجھنے کی ضرورت ہے، بل پر دو مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔

کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اس طبی نقص کے ساتھ بچے کو دل سے قبول نہیں کیا جاتا، پورے قانون میں گھر والی زیادتی کو کہیں ایڈریس نہیں کیا گیا، بدنامی کا باعث سمجھتے ہوئے فیملی اس سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوسائٹی اس کے بعد اس جرم میں شریک ہوتی ہے، اس زیادتی کو ختم کرنے کے لیے بل لایا گیا، قانون بنانے والوں میں سے کسی کو بھی اس موضوع پر عبور نہیں تھا، ہمیں بیٹھ کر اس کے حل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، مل بیٹھ کر بل کو اسلام کے مطابق کر لیں تو کوئی حرج نہیں۔

انچارج پروٹیکشن یونٹ نایاب علی نے سینیٹر کامران مرتضیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانس جینڈرز سے متعلق بین الاقوامی گائیڈ لائنز فالو کرنے کی ضرورت ہے، ہم  ٹرانس جینڈر کو خود سے الگ نہیں سمجھتے۔

نایاب علی کا کہنا ہے کہ سب جماعتوں نے مل کر یہ قانون بنایا، اب کہہ رہے ہیں کہ قانون کا علم نہیں تھا، اسے اب غیر اسلامی اور غیر شرعی کہا جا رہا ہے، اس سے ہماری زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ووٹ کے لیے ہرگز ایسا نہیں کر رہیں، ہم تشدد کے قائل نہیں، ہم آپ کی بہتری چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں