. جب ایک خواجہ سرا نے مولانا طارق جمیل کو آزمائش میں ڈال دیا - Today Pakistan
Home / اسلامی تعلیمات / جب ایک خواجہ سرا نے مولانا طارق جمیل کو آزمائش میں ڈال دیا

جب ایک خواجہ سرا نے مولانا طارق جمیل کو آزمائش میں ڈال دیا

مولانا محمد طارق جمیل کی دینی تبلیغ کا دائرہ بہت وسیع ہے، انہوں نے معاشرے کے کئی بگڑے ہوئے لوگوں کو راہ اسلام پر ڈالا دیا اور بہت سے ایکٹر اور کھلاڑی بھی انکی تبلیغی کاوشوں کے نتیجہ میں اسلامی تعلیمات کی جانب راغب ہوئے۔مولانا طارق جمیل نے اپنی مبلغانہ زندگی کا ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا ہے کہ کئی سال پہلے انہوں نے خواجہ سراؤں کو بھی دین کی تعلیم کی جانب راغب کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ کیونکہ سماجی طور پر دھتکاری جانے والی یہ مخلوق بھی اللہ کے رسول ﷺ کی امت ہے مگر اس کو اسلام نہیں سکھایا جاتا۔
مولانا طارق جمیل خانیوال کے قریب اپنے آبائی گاؤں تلمبا کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے کافی عرصہ سے یہ خیال آرہا تھا کہ خواجہ سرا بھی تو اللہ کی مخلوق ہیں اور نبیﷺ کی امت ہے، ان کو بھی دین کی دعوت دینی چاہئے۔ ایک دفعہ ایک تبلیغی جماعت میرے پاس آئی جس میں کئی گانے بجانے والے، ڈانس کرنے والے بھی تھی لیکن دعوت دین کے بعد وہ توبہ کرکے تبلیغ کی جانب راغب ہوگئے تھے ۔

میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ میرے علاقے کے خواجہ سراؤں کو بھی دین کی دعوت دیں۔ میرے گاؤں کے پاس ہی خواجہ سراؤں کا ایک اڈہ تھا۔ ایک مقامی آدمی ان کے ساتھ کیا اور وہ خواجہ سراؤں کے اڈے پر گئے۔

تبلیغی ٹیم نے بتایا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو خواجہ سرا ایک کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی پر فلم دیکھ رہے تھے۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک خواجہ سرا نے باہر جھانک کر دیکھا پھر ان کے گرو جس کا نام “بھاگی”ّ تھا اس نے پوچھا کہ کون آیا ہے۔ اس پر اس نے بتایا “ہک بندہ تے باقی سارے مولوی نیں۔”

تبلیغیوں نے ان سے کہا کہ دروازہ کھولیں۔ پھر وہ اندر گئے تو کئی خواجہ سرا انڈین فلم دیکھ رہے تھے۔ تبلیغیوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے اللہ رسول ﷺ کی باتیں کرنی ہیں۔ اس پر بھاگی بولا کہ اس وقت تو ہم فلم دیکھ رہے ہیں۔ تبلیغی بولے کہ اچھا دیکھ لو، فلم دیکھنے کے بعد ان سے دوبارہ کہا گیا کہ ہم ان سے بات کرنا چاہتے ہیں تو خواجہ سرا بولے کہ اب تو ہمارے ڈانس کی ریاضت کا وقت ہوگیا ہے۔

خیر تبلیغیوں نے کہا کہ اچھا کرلو اپنا کام۔ وہ آدھا پون گھنٹہ بیٹھے رہے، خواجہ سرا حیران ہوئے کہ یہ کیسے مولوی ہیں جو جاہی نہیں رہے۔

مولانا طارق جمیل بتاتے ہیں کہ بعد میں مجھےخواجہ سراؤں نے بتایا کہ ہم لوگوں نے اس لئے ڈانس شروع کیا کہ مولوی خود ہی بھاگ جائیں گے توبہ توبہ کرتے اور لاحول پڑھتے ہوئے۔ لیکن جب وہ نہیں بھاگے تو باقی خواجہ سراعاجز آکر کہنے لگے کہ اچھا کہو کیا کہنا ہے۔ تبلیغی جماعت میں ایک نوجوان طارق تھا جو کسی دور میں شو بز میں ون شو کا ماسٹر تھا لیکن اللہ نے توفیق دی اور وہ تبلیغ کا حصہ بن گیا۔

اس نےخواجہ سراؤں کے گرو “بھاگی” سے اللہ رسول ﷺ کی باتیں شروع کیا۔ وہ رضا مند ہوگیا اور تبلیغی اسے لیکر مسجد میں آئے۔ میں نے ان سے کہا کہ سب سے پہلے اسکو نماز پڑھاؤ۔ نماز پڑھانے کے بعد میں نے بھاگی سے پوچھا کہ تم نماز پڑھتے ہو۔ اس نے بتایا کہ اس سے پہلے کبھی نماز نہیں پڑھی۔ میں نے پوچھا کہ کبھی جمعہ پڑھا، وہ بولا کہ نہیں پڑھا، پھر سوال کیا کبھی عید پڑھی تو کہنے لگا کہ مولوی صاحب نہ جمعہ نہ عید پڑھی، یہ میری زندگی کا اللہ کو پہلا سجدہ ہے جو میں کیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ نماز کیوں نہیں پڑھتے، کبھی عید ہی پڑھ لی ہوتی، کیا وجہ ہے ؟ اس پر اس نے کہا کہ لوگ ہی ہم سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ کبھی مسجد گئے ہی نہیں ،اگر کوئی چلا بھی جائے تو اسکو ایسے دیکھتے ہیں جیسے کوئی گناہ کا کام ہوگیا ہو۔

میں نے اس کو محبت اور احترام سے ساتھ بیٹھایا اور کھانا کھلایا ،پھر دو دن میں نے اسے بہت عزت سے اپنے ساتھ ہی کھانا کھلایا تو تیسرے دن کہنے لگا کہ مولوی صاحب آپ پہلے انسان ہے جس نے ہم جیسوں کو اتنی محبت دی ورنہ مولوی تو ہم سے دور بھاگتے ہیں۔ میں نے اسے کافی کچھ سمجھایا کہ یہ دین تیرا بھی ہے میرا بھی ہے، تو دین سیکھنے کیلئے تبلیغ میں جا۔ اس پر اثر ہوا اور وہ تین دن کیلئے تبلیغی دورے پر چلاگیا۔ اس نے اپنے لمبے بال کٹوا دئیے اور پھر داڑھی رکھ لی۔ پہلی صف کا نمازی بن گیا، قرآن سیکھنا شروع کیا۔

مولانا طارق جمیل بتاتے ہیں کہ خواجہ سراؤں میں اکثر لوگ مرد ہوتے ہیں لیکن نفرت انہیں انسانوں اور مذہب سے دور کردیتی ہے۔ اس نوجوان نے خواجہ سراؤں والی زندگی چھوڑی اور پکا دین کی جانب راغب ہوا ۔اس نے شادی بھی کی اور بچوں کا باپ بھی بنا۔ جس دن وہ تبلیغ سے پہلی بار واپس آیا تھا اس نے مجھے ایک بڑی آزمائش میں ڈال دیا اور کہا “مولانا جی میں نے توبہ تو کرلی اور اب دین کی جانب مڑ گیا ہوں مگر میں ہوں چٹا ان پڑھ۔ ڈانس کے سوا آتا نہیں کچھ، نہ کام کی عادت ہے اس لئے وعدہ کریں کہ جب تک میں زندہ ہوں یا آپ زندہ ہیں، میرا خرچہ آپ نے اٹھانا ہے۔”

مولانا طارق جمیل نے کا کہنا ہے کہ یہ بڑی آزمائش تھی بہرحال انہوں نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ تاحیات اسکا خرچہ اٹھائیں گے۔ یہ خواجہ سرابعد ازاں بہت سے خواجہ سراؤں کو دین کی جانب لے آیا، ان سے توبہ کرائی اور تبلیغ کا حصہ بنا کر انہیں صراط مستقیم پر ڈال دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے