. ٹراما سینٹر میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی بلوچستان اسمبلی میں گونج - Today Pakistan
Home / بلوچستان / ٹراما سینٹر میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی بلوچستان اسمبلی میں گونج

ٹراما سینٹر میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی بلوچستان اسمبلی میں گونج

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر ) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت ایک گھنٹہ بیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی احمد نواز بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہاکہ آج کوئٹہ کے نیچاری روڈ پر ایک گاڑی کی ٹکر سے ہماری پارٹی کاسینئرکارکن زخمی ہوا جسے فوری طو رپر ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا مگر وہاں ڈاکٹر موجود نہیں تھے جس کی بناءپر انہیں بروقت طبی سہولیات نہیں ملیں انہو ں نے کہا کہ اس واقعے کا ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود کار سوار کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا ہے حکومت اس کا نوٹس لے ۔سابق وزیراعلیٰ نواب محمدا سلم رئیسانی نے ایوان کی توجہ صوبائی اسمبلی سے فوقتاً فوقتاً پاس ہونے والی قرار داد وں کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ سی پیک سے متعلق معاہدات اور ایسی قرار دادیں جو وفاق سے متعلق ہیں ان کے حوالے سے ہم پہلے بھی بات کرتے رہے ہیں ان قرار دادوں پر کس قدر پیشرفت ہوئی اس سے ایوان کو آگاہ کیا جائے انہوںنے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ کافرض بنتا ہے کہ وہ اس ایوان سے پاس ہونے والی قرار دادوں پر پیشرفت کا جائزہ لے ۔اجلاس میں نصراللہ زیرئے کی استدعا پر گزشتہ روز لورالائی میں جاں بحق ہونے والے پروفیسر ابراہیم ارمان لونی کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دورا ن اپوزیشن اراکین کے محکمہ صحت سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جوابات صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری نے دیئے ۔ وقفہ سوالات کے دوران پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے ، جے یوآئی کے سید محمد فضل آغا ، میر یونس عزیز زہری ، مولانا نوراللہ ، عبدالواحد صدیقی ، بی این پی کے ثناءبلوچ ، احمد نواز بلوچ اور شکیلہ نویددہوار نے وزیر صحت سے ضمنی سوالات بھی کئے جن کے جوابات دیئے گئے اور بعدازاں وقفہ سوالات نمٹا دیا گیا ۔اجلاس میں پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے لورالائی واقعے سے متعلق تحریک التواءپیش کرتے ہوئے کہاکہ 2فروری کو لورالائی میں دہشت گردانہ کارروائی کے خلاف سیاسی جماعتوں کا احتجاج دھرنا جاری تھا کہ اس دوران اے ایس پی پولیس کی جانب سے پرامن مظاہرین پر دھاوا بول دیا گیا اور اس کے نتیجے میں پروفیسر ارمان لونی شہید ہوگئے اس لئے ایوان کی کارروائی روک کر کر اس واقعے امن وامان کی صورتحال و دہشت گردی کی حالیہ لہر پربحث کی جائے۔ اسی حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی کی تحریک التواءبھی ایوان میں لائی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ دنوں لورالائی میں دہشت گردی کے واقعے کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس کی کارروائی میں پروفیسر ارمان لونی شہید ہوگئے جس سے عوام میں غم و غصہ پھیل گیا اس لئے ایوان کی کارروائی روک کر اس فوری عوامی نوعیت کے مسئلے کو زیر بحث لایا جائے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات ہایئر و ٹیکنیکل ایجوکیشن ظہور بلیدی نے تحاریک التواءپر بات کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ارمان لونی کی ناگہانی موت پر اظہار افسوس ہے مگر معزز رکن کی تحریک التواءمیں براہ راست پولیس کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے ایک واقعے کو غلط رنگ دینا اور لوگوں کے جذبات کو مشتعل کرنا قطعاً درست نہیں ہے بیرونی ممالک سے ٹویٹس آرہے ہیں ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ابھی تک ارمان لونی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں آئی عینی شاہدین اس حوالے سے مختلف باتیں کرتے ہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ تک انتظار کیا جائے انہوںنے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قیام امن کے لئے قربانیاں دی ہیں بغیر تحقیقات کے اس طرح کی باتیں کرنا درست نہیں ہے ہمیں پوسٹ مارٹم کا انتظار کرنا چاہئے رپورٹ آنے کے بعد بلوچستان حکومت کارروائی کرے گی لیکن اس واقعے کو لے کر اگر کسی کے مذموم مقاصد ہیں اور وہ لوگوں کو مشتعل کرنا چاہتے ہیں تو یہ قابل مذمت ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے