. سندھ میں سائبیریا سے آنیوالے پرندوں کی آمد میں پریشان کن حد تک کمی - Today Pakistan
Home / پاکستان / سندھ میں سائبیریا سے آنیوالے پرندوں کی آمد میں پریشان کن حد تک کمی

سندھ میں سائبیریا سے آنیوالے پرندوں کی آمد میں پریشان کن حد تک کمی

کراچی: سندھ میں سائبیریا سے آنے والے ہجرتی پرندوں کی آمد میں گذشتہ کئی برسوں سے غیرمعمولی کمی آ چکی ہے جب کہ سروے کے مطابق تقریبا ڈیڑھ لاکھ مقامی اور ہجرتی اور مقامی آبی پرندے شمار کیے گئے جو ماضی کے مقابلے میں 70فیصد کم ہیں۔صوبائی حکومت جنگلی حیاتیات کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہے اور صوبائی محکمہ وائلڈ لائف اسٹاف، گاڑیوں اور فنڈ کی کمی کی وجہ سے عمومی طور پر غیرفعال ادارہ بن کر رہ گیا ہے، اندرون سندھ صرف13مقامات پر شکار کی اجازت ہے اور بقیہ 34 آبی گذرگاہوں جہاں ہجرتی پرندوں کا مسکن ہے وہاں شکار کی ممانعت ہے تاہم رواں سیزن میں ان تمام مقامات پر بے دریغ اور غیرقانونی شکار کھیلا جارہا ہے اور نیٹنگ(جال لگا کر پرندوں کو پکڑنا) کا سلسلہ بھی جاری ہے۔کئی چھوٹے بڑے وڈیرے نجی اور سرکاری اراضی پر کمرشل بنیادوں پر شکار کھلوارہے ہیں، تقریباً ایک کلومیٹر ایریا میں ایک مورچہ قائم کیا جاتا ہے جس میں8 شکاری ہوتے ہیں، یہ مورچہ ڈیڑھ لاکھ میں فروخت ہوتا ہے۔سندھ وائلڈ لائف اور زولوجیکل سروے آف پاکستان نے گزشتہ سال آبی پرندوں کو شمار کرنے کیلیے کراچی کے ساحل سمندر ہاکس بے سمیت اندرون سندھ کی12جھیلوں کا سروے کیا، ان جھیلوں میں ہڈیرو، لنگھ، ڈرگھ، ھمل، منچھر، دیہہ آکڑو، نررڈی، مہرانو، کینجھر اور ہالیجی شامل ہیں، ان مقامات پر64 اقسام کے مقامی اور ہجرتی پرندوں کا شمار کیا گیا ہے، اس پرندہ شماری میں مجموعی طور پر آبی پرندوں کی تعداد 153,916 رہی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان بالخصوص سندھ میں ہجرتی پرندوں میں کمی کی ایک وجہ نہیں ہے، اس میں قدرتی اور انسانی دونوں مداخلت شامل ہیں، آبی پرندوں میں کمی کا سلسلہ 3 عشروں سے بتدریج جاری ہے تاہم اس وقت بے دریغ شکار اور اس سے کہیں زیادہ ہونے والی نیٹنگ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے اور فطرت دوست شہریوں کو سخت مایوسی کا سامنا ہے جن کا کہنا ہے کہ اب جبکہ آبی پرندے اتنی کم تعداد میں رہ گئے ہیں تو صوبائی حکومت ان کے شکار بالخصوص نیٹنگ پر پابندی عائد کیوں نہیں کرتی اور اس مافیا کے خلاف ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے۔سندھ وائلڈ لائف کے آفیشل رشید احمد خان کے مطابق افغان وار کی وجہ سے بھی ہجرتی پرندوں میں کمی آئی ہے، اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی اور بارشوں کی کمی ہے جن کی وجہ سے چھوٹی آبی گذرگاہیں خشک ہوچکی ہیں ، 4 عشروں سے جاری افغان وار کی وجہ سے ہجرتی پرندوں کا پاکستان روٹ متاثر ہوا ہے اور گذشتہ کئی سال سے ہزاروں ہجرتی پرندے اس روٹ کے بجائے دیگر ہمسایہ ممالک کی طرف جارہے ہیں۔
رشید خان کا کہناہے کہ ملک بھر میں آبی پرندے سب زیادہ سندھ میں آتے ہیں کیونکہ یہاں کھارے اور میٹھے پانی دونوںکے سرچشمے موجود ہیں، یعنی سمندر اور جھیلیں، پاکستان میں 19رمسر سائٹ ہیں جن میں 10رمسر سائٹ سندھ میں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے