. ون یونٹ کے خاتمہ کے بعد اٹھارہویں ترمیم جمہوری قوتوں کی بڑی کامیابی ہے‘ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ - Today Pakistan
Home / بلوچستان / ون یونٹ کے خاتمہ کے بعد اٹھارہویں ترمیم جمہوری قوتوں کی بڑی کامیابی ہے‘ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

ون یونٹ کے خاتمہ کے بعد اٹھارہویں ترمیم جمہوری قوتوں کی بڑی کامیابی ہے‘ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

پاکستان بلوچ، سندھی، پنجابی اور پشتون اقوام پر مشتمل فیڈریشن ہے مذکورہ اقوام اپنی اپنی جداگانہ قومی تاریخیں، تہذیب و تمدن، رسم و رواج اور زبان رکھتی ہیں

تربت(ٹوڈے پاکستان نیوز)بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ ون یونٹ کے خاتمہ کے بعد اٹھارہویں آئینی ترمیم اس ملک میں ترقی پسند سیاسی جمہوری قوتوں کی بہت بڑی کامیابی ہے جو کامل قومی خودمختاری کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت اور درست قدم کی مانند حیثیت رکھتی ہے، یہ ملک بھیانک آئینی تاریخ رکھتی ہے، قیام پاکستان کے بعد 9 سال تک ملک کو 1935ءکے انڈیا ایکٹ کے تحت چلایا گیا اس کے بعد 1956ءکا آئین نافذ کیا گیا، پھر 1962ءکا آئین لایا گیا پھر 1973ءمیں نئی آئین متعارف کی گئی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز یونیورسٹی آف تربت کے لاءفیکلٹی کے طلباءکی جانب سے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے موضوع پر منعقدہ لکچر پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، پروگرام میں طلباءکی کثیر تعداد نے شرکت کی جبکہ آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے موضوع پر لکچر دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بلوچ، سندھی، پنجابی اور پشتون اقوام پر مشتمل فیڈریشن ہے مذکورہ اقوام اپنی اپنی جداگانہ قومی تاریخیں، تہذیب و تمدن، رسم و رواج اور زبان رکھتی ہیں جن کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے مگر بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد یہاں پر بسنے والے اقوام کی قومی حیثیتوں اور ان کے حقوق سے انکار کی پالیسی اپنائی گئی، صدیوں سے اپنی اپنی سرزمینوں پر آباد اقوام کی حیثیت من و عن تسلیم کرکے انہیں ان کے قومی حقوق سے فیضیاب کراتے ہوئے اس ملک کو فیڈریشن کے حقیقی روح کے مطابق چلانے کے بجائے یہاں پر قوموں کے قومی حیثیت، ان کی تاریخ، ان کے رسم و رواج، ان کی زبان اور تہذیب و تمدن اور ان کے قومی حقوق سے منکر ہوکر غیر حقیقی اور سطحی سوچ کے تحت ملک کو چلانے کی ناکام کوششیں کی گئی، طویل عرصہ تک ملک کو آئین سے محروم رکھا گیا پھر یکے بعد دیگرے تجربات کرکے ملک کو تجربہ گاہ بنایا گیا، انہوں نے کہا کہ نیپ جو یہاں کے محکوم اقوام کی نمائندہ ترقی پسند جمہوری سیاسی جماعت تھی، کی طویل جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے بعد ون یونٹ جیسے استحصالی نظام کا خاتمہ ہوا، اس کے بعد فیڈریٹنگ یونٹس بحال ہوئی گوکہ انتظامی اختیارات نہ ہونے کے برابر تھے مگر ہمارے فیڈریٹنگ یونٹ کے لفظ ”بلوچستان“ نے ہماری قومی شناخت کو زبردست تقویت پہنچائی،انہوں نے کہا کہ آٹھارہویں آئینی ترمیم دراصل چارٹر آف ڈیموکریسی کا مابعد اثرات ہے2008ءکے الیکشن کے بعد پی پی پی کی حکومت قائم ہوئی تو صدر زرداری نے اس ضمن میں کوششوں کا آغاز کیا، رضا ربانی کی سربراہی میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کے 27 پارلیمانی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی، کمیٹی نے 77 اجلاسیں کیے جبکہ اوسطاً روزانہ 5 گھنٹہ کام کیا، ترمیم کے بعد آئل، گیس وسائل پر قومی وحدتوں کا 50 فیصد ملکیت تسلیم کی گئی، کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ ہوا جس کے بعد 56 محکمہ جات وحدتوں کو منتقل ہوئے، فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ پارٹ 2 کے معاملات کا CCI تک رسائی، رقبہ اور غربت کے نکات کو شامل کرکے این ایف سی ایوارڈ کا ازسرنو تعین جس میں قومی وحدتوں کے مالیاتی حقوق کا تحفظ اور اس ضمن میں مزید کمتر نہ ہونے کی ضمانت، ترمیم کے بعد این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ دیگر وحدتوں کی نسبت سب سے زیادہ بڑھا جو 5.2 سے بڑھ کر 9.9 ہوا، سندھ کا 23 سے بڑھ کر 24، خیبر پختونخواہ کا 13 سے 14 جبکہ پنجاب کا 57 سے کم ہوکر 47 اسی طرح وفاق کا حصہ بھی کم ہوا، این ایف سی میں وسائل کی تقسیم کے فارمولہ اورمعیار میں بنیادی تبدیلی لائی گئی جس کے مطابق آبادی 82%، غربت 10%، ٹیکس کلیکشن 5%اور رقبہ 2.7 % طے ہوا، بلوچستان اور سندھ کے ناموں میں موجود اسپلنگ کی غلطی کا خاتمہ اور خیبر پختونخواہ کے نام کو اس کے قومی شناخت کے مطابق رکھنا، تربت میں بلوچستان ہائی کورٹ کے نئی بنچ کا قیام، تعلیمی نصاب پر قومی وحدتوں کی دسترسی، ایل ایف او اور 58ٹوBکا خاتمہ، آرٹیکل 6 کا تعین، بلدیاتی انتخابات لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بجائے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذمہ لگانا سمیت جنرل ضیاءاور جنرل مشرف کی جانب سے آئین میں شامل کیے گئی تمام غیر جمہوری شقیں نکال کر مجموعی طور پر 110 ترامیم کرکے نہ صرف آئین کو اس کے حقیقی روح کے مطابق بحال کیا گیا بلکہ قومی وحدتوں کو زیادہ طاقتور بنایا گیا مگر بدقسمتی سے آج آٹھارہویں ترمیم کے خلاف محلاتی سازشیں منظم انداز میں رچائی جارہی ہیں جس کے بھیانک نتائج نکلیں گے،انہوں نے کہا ملک کو حقیقی معنوں میں فیڈریشن بنانے اور یہاں پر قومی وحدتوں کے قومی خودمختاری کے حصول کی جانب ون یونٹ کے خاتمہ کے بعد دوسرا اہم ترین انقلابی قدم آٹھارہویں آئینی ترمیم ہے جس کے بعد ایک حد تک ریاست حقیقی فیڈریشن کا روپ دھار چکی ہے اور قومی وحدتوں کا وفاق کے اوپر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے مگر یہ اب بھی کامل نہیں ہے، مکمل قومی خودمختاری کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی، انہوں نے کہاکہ ہماری جماعت نے تجویز دی تھی کہ کرنسی، دفاع اور فارن افیئرز کے علاوہ دیگر تمام محکمہ جات اور اختیارات قومی وحدتوں کو منتقل کیے جائیں، قومی زبانوں کو آئینی تحفظ دیجائے، مواصلات خصوصی طور پر بندرگاہوں کا انتظامی و مالی کنٹرول قومی وحدتوں کو تفویض کیے جائیں، مگر اس میں ہمیں کامیابی نہ ملی، انہوں نے کہا کہ ہم اس سیاسی فلسفہ پر یقین رکھتے ہیں کہ ڈھیلا ڈھالا وفاق، مضبوط قومی وحدتیں ہی مستحکم پاکستان کی ضامن ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے