. بلوچستان میں انتخابی عذرداری کیس ، بائیو میٹرک تصدیق کی درخواست خارج - Today Pakistan
Home / بلوچستان / بلوچستان میں انتخابی عذرداری کیس ، بائیو میٹرک تصدیق کی درخواست خارج

بلوچستان میں انتخابی عذرداری کیس ، بائیو میٹرک تصدیق کی درخواست خارج

صرف سیاہی پیڈ سے ٹھپہ لگا کر تو بائیو میٹرک تصدیق نہیں ہو سکتی، جسٹس اعجازالاحسن

اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے بلوچستان میں انتخابی عذرداری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بائیو میٹرک تصدیق کی درخواست خارج کر تے ہوئے کہا ہے کہ اگر پری پول دھاندلی ہوئی تھی تو متعلقہ فورم سے رجوع کریں ، کسی نے غلط بیان حلفی جمع کروایا ہے تو الیکشن کمیشن جائیں۔ جمعرات کو بلوچستان میں انتخابی عذرداری سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔سماعت کے دور ان وکیل اسفند یار کاکڑ نے کہاکہ میرے موکل نے 16169 ووٹ حاصل کیے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پھر بھی چھ ہزار سے زائد ووٹوں کا فرق ہے۔ وکیل اسفند یار نے کہا کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ووٹوں کی تصدیق کی جائے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ آپ تصدیق کرائیں گے، نادرہ کے گا سیاہی ٹھیک نہیں ہے، تصدیق نہیں ہو سکتی۔ وکیل اسفند یار نے کہاکہ یا بائیو میٹرک تصدیق کرائی جائے یا ری الیکشن کرائیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ وہ پندرہ بندے پکڑ کر لے آئیں اور انگوٹھے لگوا لیں ان کو پتا نہیں ہوتا بیان حلفی میں کیا ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ اب قانون تبدیل ہو چکا ہے آپ نقطے پر آئیں۔ وکیل نے کہا کہ میں بائیو میٹرک تصدیق کا کہہ رہا ہوں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا آپ کو پتا ہے بائیو میٹرک تصدیق کتنی مشکل ہوتی ہے؟ ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر مشین بائیو میٹرک ہو تو پھر تصدیق آسان ہوتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ صرف سیاہی پیڈ سے ٹھپہ لگا کر تو بائیو میٹرک تصدیق نہیں ہو سکتی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی اس لیے بائیو میٹرک تصدیق کروائی جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر کوئی بندہ کہے وہ وہاں موجود تھا اور جعلی شناختی کارڈ سے ووٹ ڈالا گیا پھر تو دھاندلی ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اب الیکشن ہو گیا اور آپ ہار گئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اب آپ چاہتے ہیں 40 یا 70 پولنگ اسٹیشنز کی بائیو میٹرک تصدیق کریں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ چھ ماہ بعد پتا چلے گا کہ انگوٹھوں کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ اس لیے نئے الیکشن ایکٹ میں بات کو مخصوص کر دیا گیا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اپ نے دس لوگوں کے ایک جیسے بیان حلفی جمع کروا دیے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ اگر پری پول دھاندلی ہوئی تھی تو آپ متعلقہ فورم پر جاتے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر کسی نے غلط بیان حلفی جمع کروایا ہے تو آپ الیکشن کمیشن جائیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کو اختیار دیا ہوا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے بائیو میٹرک تصدیق کی درخواست خارج کر دی۔ یاد رہے کہ پی بی۔18 بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام ف کے امیدوار نے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کو شکست دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے