. چین کے ساتھ سی پیک میں قطعی کوئی کمی نہیں آئےگی،شاہ محمود قریشی - Today Pakistan
Home / اہم خبریں / چین کے ساتھ سی پیک میں قطعی کوئی کمی نہیں آئےگی،شاہ محمود قریشی

چین کے ساتھ سی پیک میں قطعی کوئی کمی نہیں آئےگی،شاہ محمود قریشی

10 ارب ڈالر کی آئیل ریفائنری بلوچستان میں سعودی عرب کی طرف سے لگائی جائے گی

برمنگھم (ٹوڈے پاکستان نیوز )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ سی پیک پارٹ ٹو کا فیصلہ ہو چکا ہے ، چین کے ساتھ سی پیک میں قطعی کوئی کمی نہیں آئےگی،10 ارب ڈالر کی آئیل ریفائنری بلوچستان میں سعودی عرب کی طرف سے لگائی جائے گی،33 سال سیاست میں ہو گئے ہیں ،میری سیاسی آنکھ ایک نیا سورج طلوع ہوتا دیکھ رہی ہے،وہ لوگ جو عزت کا روزگار ڈھونڈنے ملکوں ملکوں پھرتے ہیں انہیں روزگار ملک کے اندر میسر ہو گا۔ گزشتہ روز وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پی ٹی آئی برطانیہ کے ورکز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح برمنگھم کے لوگوں نے میرا استقبال کیا وہ ہمیشہ مجھے یاد رہے گا۔انہوںنے کہاکہ 2018 جون میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ شائع ہوتی ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستان کی طرف سے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتی ہے،ان دو رپورٹس کے بعد ہماری حکومت نے فیصلہ کیا کہ یم تحریک انصاف ہیں اور ہمیں خاموشی توڑنا ہے مظلوموں کے ساتھ آواز اٹھانا ہے۔انہوںنے کہا کہ آل پارٹیز پارلیمانی گروپ نے تحقیق اور شواہد اکٹھے کرنے کے بعد 30 اکتوبر کو جو رپورٹ شائع کی وہ وہی تھی جو پاکستان سال ہا سال سے کہتا چلا آ رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم لوگ مغرب کی آشیرباد سے نہیں آئے ہمارے پیچھے 22 سال کی جہد مسلسل ہے۔ہمیں کہا جاتا تھا کہ ہمارے پاس قیادت نہیں آج میں آپ سب کو مبارک باد دیتا ہوں کہ منزل قریب ہے منزل وزارتِ خارجہ کی کرسی نہیں بلکہ نیا پاکستان ہے جس حال میں پاکستان کی باگ ڈور عمران خان کو دی گئی وہ آپ سب کے سامنے ہے آپ لوگ قابلِ تحسین ہیں کہ آپ وطن سے محبت کرتے ہیں یہاں کماتے ہیں اور 22 ارب ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں آپ نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ آپ افضل پاکستانی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ میں نے 4 فروری کو برطانوی پارلیمنٹ کے ہاو¿س آف کامنز میں جو ماحول دیکھا وہ غیر معمولی تھا۔ انہوںنے کہا کہ ہندوستان جتنا مرضی چھپا لے سوشل میڈیا اسے بے نقاب کر دیتا ہے ،برطانوی پارلیمنٹ میں مظلوم کشمیریوں کے حق میں جو متفقہ قرارداد منظور ہوئی ان پر ہونے والے ظلم و استبداد کے خلاف جو آواز بلند ہوئی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمنٹرینز کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس قرارداد کی توثیق کی یہ پیغام ان کشمیریوں تک پہنچ چکا ہے اور وہاں سے جتنی بھی حریت قیادت ہے اس نے مرحبا کہا۔ انہوںنے کہاکہ میں برطانیہ کے کشمیریوں کو 4 فروری کی قرارداد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ 5 فروری کو پارلیمنٹ سکوائر کے سامنے جو ہزاروں لوگ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے جمع ہوئے تو سب کو پیغام دیا کہ برطانیہ کے پاکستانیوں اور کشمیریوں کے ضمیر زندہ ہیں۔ انہوںنے کہا کہ میں لندن میں مقیم پاکستانیوں کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے اس وقت عمران خان کا ساتھ دیا جب ہمیں محض ایک سیٹ ملتی ہے آپ نے شوکت خانم کو کھڑا کیا۔ انہوںنے کہاکہ آپ کو ووٹ کا حق دلانے کےلئے جب تحریک انصاف نے بیڑا اٹھایا تو کچھ لوگوں نے مخالفت کی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملا تو یہ ووٹ تحریک انصاف کو ملے گالیکن ہم نے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا اور آپ کا حق آپ کو دلایا۔ انہوںنے کہاکہ میں ان پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو خالی جیب آئے اور اپنی محنت سے کروڑوں اربوں پتی ہوئے،میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ہمارے پاس پانی کی کمی کو محسوس کیا جنہوں نے محسوس کیا کہ ہمارا 90 فیصد پانی زراعت کےلئے صرف ہوتا ہے ہمارے ریزروائیر کم ہو رپے ہیں اور ان تارکینِ وطن نے ہماری آواز پر لبیک کہا اور کہا کہ ہم ڈیم بنائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ مجھے آج سیاست میں 33 سال ہو گئے ہیں ہم نے عملی سیاست کی ہے میری سیاسی آنکھ ایک نیا سورج طلوع ہوتا دیکھ رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ وہ لوگ جو عزت کا روزگار ڈھونڈنے ملکوں ملکوں پھرتے ہیں انہیں یہ روزگار ملک کے اندر میسر ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی سربراہی میں نئی ویزا پالیسی کا اعلان کر دیا ہے 60 ایسے ممالک ہیں جنہیں ویزہ آن ارائیول ملے گا 175 ملک ایسے ہیں جن کے ساتھ ای ویزے کی سہولت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستانیوں فیصلہ کر لو 2020 میں چھٹیاں پاکستان میں گزارنا ہے اگر آپ نے فیصلہ کر لیا تو ہوٹلوں میں جگہ کم پڑ جائےگی لوگوں کا اعتماد پاکستان پر بڑھتا چلا جائےگا۔ انہوںنے کہاکہ آپ پاکستان کی معیشت کو کھڑا کریں گے آپ اس پر سوچیں۔ انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان بناو¿ سرٹیفکیٹس کا آغاز کیا ہے کس کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی، پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور آپ کو بینکوں سے بہترین ریٹرن ملے گا ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ یہ اتنی بڑی سہولت ہم دے رہے ہیں ہم نے معاشی سفارتکای کا آغاز کیا ہے اور یہ معاشی سفارتکای کا ایک حصہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں پانچ ماہ کا حساب دینے برمنگھم آیا ہوں جب ہم نے منصب سنبھالا تو ہم نے دیکھا کہ حالات دگر گوں ہیں پانچ ماہ میں سعودی عرب ہماری امداد کو آ جاتا ہے سعودیہ 3.2 تین سال کےلئے 9.6 ارب ڈالر کا تیل تاخیر ادائیگی پر دینے پر تیار ہو گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ 10 ارب ڈالر کی آئیل ریفائنری بلوچستان میں سعودی عرب کی طرف سے لگائی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ یو اے ای نے 3 ارب ڈالر کا ایم او یو سعودی عرب کی طرح دستخط کر کے دے دیئے۔ انہوںنے کہا کہ دوحہ میں پاکستان کی کمیونٹی سے اسٹیڈیم میں ملاقات ہوئی اور لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ انہوں نے کہاکہ قطر کے امیر نے کہا کہ ہم آپ کو تحفہ دینا چاہتا ہوں اور انہوں نے کہا کہ ہم ایک لاکھ پاکستانیوں کو نوکریاں دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ جب میں نے منصب سنبھالا تو پاک امریکہ تعلقات طعنہ و تشنیع پر مبنی تھے اور آج امریکہ پاکستان اور عمران کی وجہ سے طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے،ہم نے انہیں واضع کیا کہ افغان امن عمل کیلئے مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے،ہم جب حکومت میں آئے تو اخبارات میں خبریں شائع کروائی گئیں کہ چین سی پیک کے حوالے سے بے چینی پائی جاتی ہے لیکن ہم نے واضح کیا کہ چین کے ساتھ سی پیک میں قطعی کوئی کمی نہیں آئےگی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور چین کے مابین سی پیک پارٹ ٹو کا فیصلہ ہو چکا ہے پوری قوم کو مبارکباد ہو۔ انہوںنے کہاکہ میں یورپین یونین اور پاکستان کے مابین ایک نیا اسٹریٹیجک اینگیجمنٹ پلان سائن کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ میری خواہش ہے کہ برطانیہ کے ساتھ ہم دوطرفہ تجارت کو فروغ دیں اور ہم دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ سابقہ حکمرانوں کی نظر واشنگٹن پر ہوتی تھی ہماری مدینے پر ہوتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جب اس ملعون نے کارٹون کے ذریعے گستاخی کا اعلان کیا تو ہم میدان میں آئے میں نے ترک وزیر خارجہ کو اعتماد میں لیا اور ناموس رسالت پر بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی۔ انہوںنے کہاکہ ماضی کے حکمران گردشی قرضہ 1200 ارب کا ہمارے لیے چھوڑ کر گئے ہمیں کہا جاتا رہا کہ توانائی کے پلانٹس لگا رہے ہیں لیکن آج ڈسٹریبیوشن لائنز تک پوری نہیں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ 28000 ٹریلین کا قرضہ ہمارے سر ہے گورنس نام کو نہ تھی پی آئی اے، آئل اینڈ گیس اور تمام بڑے ادارے خساروں کا شکار تھے آج معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے