. کسی کے خلاف فتویٰ دینے والوں کا ٹرائل انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ہونا چاہیے،سپریم کورٹ - Today Pakistan
Home / اہم خبریں / کسی کے خلاف فتویٰ دینے والوں کا ٹرائل انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

کسی کے خلاف فتویٰ دینے والوں کا ٹرائل انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

آئین پاکستان سیاسی پارٹی بنانے اور احتجاج کرنے کا حق دیتا ہے ، احتجاج سے دوسرے کا حق متاثر نہیں کیا جا سکتا ،سڑکیں بلاک کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے ،عدالت عظمیٰ کا فیصلہ

اسلام آباد ۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہاہے کہ آئین پاکستان سیاسی پارٹی بنانے اور احتجاج کرنے کا حق دیتا ہے تاہم احتجاج سے دوسرے کا حق متاثر نہیں کیا جا سکتا ،سڑکیں بلاک کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے ،کسی کے خلاف فتویٰ دینے والوں کا ٹرائل انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ہونا چاہیے۔ بدھ کو 43 صفحات پر مشتمل فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا \فیصلے کے مطابق سیاسی جماعت بنانا ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے لیکن کوئی سیاسی جماعت ملکی سالمیت کے خلاف کام نہیں کر سکتی ۔ فیصلے میں کہاگیاکہ تحریک لبیک پاکستان بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہوئی ، جس نے 2017 کا انتخاب بھی لڑا، ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عرب باشندہ جیسے پاکستان آنے جانے کی اجازت ہے اس نے الیکشن لڑا، جسے نائیکوپ پر پاکستان آنے کی اجازت تھی اس نے ٹی ایل پی کی الیکشن کمیشن میں نمائندگی کی، سیاسی جماعتیں پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کر سکتیں ہے نہ ہی دہشتگردی میں ملوث ہو سکتی ہیں،سڑکیں بلاک کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانون کے تحت کاروائی ضروری ہے فیصلے میں کہا گیا کہ دھرنا قائدین نے دھمکیوں اور گالیوں کے ساتھ نفرت پھیلائی ہر حکومت مخالف دھرنے کا حصہ بن گیا ،آئی ایس ائی کے مطابق تحریک انصاف ،شیخ رشید اور اعجاز الحق نے دھرنے کی حمایت کی، پی پی پی کے مقامی رہنما بھی دھرنے کی حمایت کرتے رہے۔فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن کا فرض ہے قانون کے خلاف ورزی کرنے والی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کرے جبکہ ہر سیاسی جماعت فنڈنگ کے ذرائع بتانے کی پابند ہے۔فیصلے میں کہا گیاکہ بارہ مئی 2007 کے واقعہ نے تشدد کو ہوا دی۔سانحہ 12 مئی کو کراچی میں قتل عام کے ذمہ دار اعلی حکومتی شخصیات تھیں۔جنہیں سزا نہ دے کر غلط روایت قائم کی گئی ۔فیصلے کے مطابق کسی کے خلاف فتوی دینے والوں کا ٹرائل انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ہونا چاہیے جبکہ تمام حساس ادارے اپنی حدود سے تجاویز نہ کریں، حساس ادارے آزادی اظہار رائے پر قد غن نہیں لگا سکتے ،حساس اداروں کی حدود طے کرنے کےلئے قانون سازی کی جائے حساس ادارے ملک کے خلاف سرگرمیوں پر نظر رکھیں ،فیصلے کے مطابق آئین پاک فوج کو سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بننے سے روکتا ہے۔آئین کے مطابق پاک فوج کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت نہیں کر سکتی،وزارت دفاع اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان حلف کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیاں احتجاج اور ریلی کو رکنے کےلئے لایا عمل تیار کریں۔فیصلے میں کہا گیا کہ سیاسی معاملات میں آئی ایس آئی کی مداخلت اصغر خان کیس کے بعد رک جانی چاہئے تھی تاہم دیکھا گیا کہ دھرنے میں ہزار ہزار روپے کے لفافے بانٹے گئے ، فوج کے سربراہ آئی ایس آئی کے سربراہ ، آئی ایس پی آر کے سربراہ ، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ اور آئی بی حکومت پاکستان سیکریٹری دفاع ، سیکریٹری داخلہ ، سیکریٹری انسانی حقوق ، سیکریٹری مذہبی کو فیصلے کی کاپی بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے