. این ایف سی میں صوبوں کے حصے کی آئینی گارنٹی ہے ،کم نہیں کیا جا سکتا، وزیر خزانہ - Today Pakistan
Home / اہم خبریں / این ایف سی میں صوبوں کے حصے کی آئینی گارنٹی ہے ،کم نہیں کیا جا سکتا، وزیر خزانہ

این ایف سی میں صوبوں کے حصے کی آئینی گارنٹی ہے ،کم نہیں کیا جا سکتا، وزیر خزانہ

وفاق کا ٹیکس کم ہونے سے بھی پنجاب کی آمدن میں کمی ہوئی ہے،دو ماہ کے واجبات طے ہونا باقی ہیں ،ہاشم چوہان بٹ وزیر خزانہ پنجاب

فاٹا کی ترقی اب بھی وفاق کی ذمہ داری ہوگی،فاٹا کا بوجھ صوبوں پر نہیں ڈالا جاسکتا،فاٹا کیئے اگر کوئی مدد چاہئے ہوگی تو فراہم کریں گے

اسلام آباد (ٹوڈے پاکستان نیوز)وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے واضح کیا ہے کہ 18ویں ترمیم کو تسلیم کرتے ہیں ،این ایف سی میں صوبوں کے حصے کی آئینی گارنٹی ہے ،اس کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ بدھ کوقومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہوا ۔اجلاس میں صوبائی وزراءخزانہ اور صوبائی پرائیوٹ ممبران شریک ہوئے ۔اجلاس میں وزیر خزانہ نے تمام شرکاءکو خوش آمدید کہا ۔ اجلاس کے دور ان سیکرٹری خزانہ عارف خان کی مالیاتی صورتحال پر بریفنگ دی ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں نئے این ایف سی ایوارڈ کیلئے حکمت عملی ،وفاقی ،صوبائی حکومتوں کی مالی صورتحال ،نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراءکیلئے وسائل کی تقسیم کے فارمولے سمیت مختلف امورپر غور کیا گیا ۔ اجلاس کے دوران وفاقی سیکرٹری خزانہ نے مالیاتی صورتحال پر بریفنگ دی جس کے بعد سیکرٹری خزانہ پنجاب ، سیکرٹری خزانہ سندھ اور وزیر خزانہ خیبر پختون خوا تیمور خان جھگڑا نے مالیاتی صورتحال پر بریفنگ دی ۔ذرائع کے مطابق اسد عمر نے 18ویں ترمیم پرپالیسی بیان دیتے ہوئے کہاکہ 18ویں ترمیم کو تسلیم کرتے ہیں،18ویں ترمیم میں سوبوں اور این ایف سی کی درست سمت میں قدم ہے۔اسد عمر نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق اسد عمر نے کہاکہ این ایف سی میں صوبوں کے حصے کی آئینی گارنٹی ہے اس کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کے مطانمائندہ پنجاب سلمان شاہ نے کہا کہ آج کے اجلاس میں ملک کے اخراجات اور امدن پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ نمائندہ پنجاب سلمان شاہ نے کہا کہ آنے والے سالوں میں ریونیو میں اضافے کے زیادہ امکانات ہیں۔ نمائندہ پنجاب سلمان شاہ نے کہا کہ اس سے صوبوں اور وفاق کو فائدہ پہنچے گا۔ نمائندہ پنجاب سلمان شاہ نے کہاکہ فاٹا پورے پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ نمائندہ پنجاب سلمان شاہ نے کہا کہ کہیں نہ کہیں سے فاٹا کی تعمیر نو کرنا ہوگی۔ نمائندہ پنجاب سلمان شاہ نے کہا کہ فاٹا وفاق او صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔نمائندہ پنجاب سلمان شاہ نے کہا کہ اجلاس میں سرکلر ڈیٹ پر بھی بات ہوئی ہے کہ اس سے کسطرح نمٹا جائے۔نمائندہ پنجاب سلمان شاہ نے کہا کہ ملک پر تیس ہزار ارب کے قرضوں کا بوجھ ہے۔نمائندہ پنجاب سلمان شاہ نے کہا کہ این ایف سی اجلاس میں قرضوں پر بھی بات ہوئی ہے۔ نمائندہ پنجاب سلمان شاہ نے کہاکہ شرح سود کی ادائیگی میں اضافہ ہو رہا ہے اس کو بھی سب نے دیکھنا ہے۔قومی مالیاتی کمیشن کے پہلا اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ سندھ نے گڈز پر جی ایس ٹی وصولی کا اختیار بھی مانگ لیا۔مراد علی شاہ نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ سروسز کے ساتھ گڈز پر جی ایس ٹی کی وصولی بھی صوبوں کو دی جائے۔مراد علی شاہ نے کہاکہ سندھ نے جی ایس ٹی سروسز پر 26فیصد زیادہ وصولی کی ہے گڈز پر بھی زیادہ وصول کرسکتے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ر واں مالی سال کے سات ماہ کے دوران صوبوں کے حصے میں پچھلے سال سے بھی کم پیسے ملے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جو صورتحال لگ رہی ہے اس سے پورے سال کے دوران سندھ کو104ارب کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ تمام ایشوز میٹنگ میں ہم نے اٹھائے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہاکہ وزیر خزانہ نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔مراد علی شاہ نے کہاکہ فاٹا وفاق کی ذمہ داری ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ فاٹا کے پی کے میں ضم ہوچکا ہے کے پی کے اور وفاق کو ہی اس کو ڈیل کرنا پڑےگا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ فاٹا کے سلسلے میں صوبوں سے مزید وسائل کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اجلاس میں 5 گروپس بنا دئیے گئے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ این ایف سی کا اگلا اجلاس 6ہفتوں کے بعد ہوگا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک گروپ فاٹا،ایک کاروباری ماحول بہتر بنانے ایک صوبوں کو وسائل کی براہ راست منتقلی پر بنایا گیا ہے۔مراد علی شاہ نے کہاکہ ہاری زینٹل اور ورٹیکل ڈسٹری بیوشن پر بھی دو گروپس بنے ہیں۔ ایک سوال پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ وزیر خزانہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اٹھاریوں آئینی ترمیم پر عمل درامد کروایا جائیگا۔ انہوںنے کہا کہ صوبہ سند ھ کو گزشتہ برس کے مقابلے میں کم فنڈز ٹرانسفر کئے گئے ۔ انہو ںنے کہاکہ صوبہ سندھ کو 104 ارب روپے کم ٹرانسفر کئے گئے۔ انہوںنے کہاکہ فاٹا وفاقی حکومت کا حصہ تھا فاٹا کی ترقی بھی وفاق کی ذمہ داری تھی انہوںنے کہاکہ وفاقی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ فاٹا کی ترقی پر توجہ نہیں دی گئی ۔ انہوںنے کہاکہ فاٹا کی ترقی اب بھی وفاق کی ذمہ داری ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ فاٹا کا بوجھ صوبوں پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ مراد علی شاہ نے کہاکہ فاٹا کو اگر کوئی مدد چاہئے ہوگی تو فراہم کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ اشیاءپر سیلز ٹیکس کی وصولی کا اختیار صوبوں کو دیا جائے،صوبے یہ ٹیکس زیادہ بہتر انداز میں اکٹھا کرسکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سندھ نے خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولی میں 26 فیصد اضافہ کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ این ایف سی کا اگلا اجاس چھ ہفتے بعد ہوگاانہوںنے کہاکہ موجودہ اجلاس میں وفاقی حکومت نے چھ سب گروپس قائم کردئیے ہیں انہوںنے کہاکہ سب گروپس اپنی اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔وزیر خزانہ پنجاب ہاشم چوہان بٹ بختیار نے کہاکہ سازگار ماحول میں میٹنگ ہوئی ہے ۔انہوںنے کہا کہ چھ ہفتوں کے بعد این ایف سی کا دوبارہ اجلاس ہوگا ۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ہم تمام صوبوں کو اس کو سامنے رکھتے ہوئے سوچنا ہوگا ۔ہاشم چوہان بٹ بختیار وزیر خزانہ پنجاب نے کہاکہ پنجاب کو وسائل میں اضافے کے گروپس پر کام کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ہاشم چوہان بٹ بختیار وزیر خزانہ پنجاب نے کہا کہ پنجاب کو بھی وفاق سے وصولیاں گزشتہ سال کی نسبت کم ہوئی ہیں۔ ہاشم چوہان بٹ بختیار وزیر خزانہ پنجاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی ریونیو اتھارٹی قائم کی جا چکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ موبائل کال پر ٹیکس ختم ہونے سے ٹیکس آمدن میں کمی ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ پنجاب کی ٹیکس آمدن میں ستر ارب روپے کی کمی ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ وفاق کا ٹیکس کم ہونے سے بھی پنجاب کی آمدن میں کمی ہوئی ہے،دو ماہ کے واجبات طے ہونا باقی ہیں۔میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ این ایف سی کے پہلے اجلاس میں وفاق اور صوبوں نے مالیاتی مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ وفاق اور صوبوں نے زور دیا جب تک مالیاتی وسائل نہیں بڑھیں گے تو مسائل حل نہیں ہونگے،کمی اور وجہ سے وفاق اور صوبے اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے۔ انہوںنے کہاکہ این ایف سی کے پہلے ورکنگ اجلاس میں چھ ورکنگ گروپس بنا دئیے گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے