. گرفتار ہونیوالے پی ٹی آئی رہنما علیم خان کوآج نیب کورٹ میں پیش کیاجائیگا - Today Pakistan
Home / اہم خبریں / گرفتار ہونیوالے پی ٹی آئی رہنما علیم خان کوآج نیب کورٹ میں پیش کیاجائیگا

گرفتار ہونیوالے پی ٹی آئی رہنما علیم خان کوآج نیب کورٹ میں پیش کیاجائیگا

سینئر وزیر پنجاب کی طرف سے استعفیٰ دینے کی اطلاعات ،اپنے خلاف کیس اور گرفتاری کا عدالت میں سامنا کروں گا ‘عبدالعلیم خان

نیب کو کسی بھی اعلیٰ شخصیت کو تحقیقات کیلئے حراست میں لینے کا حق حاصل ہے ،علیم خان ملزم یا مجرم نہیں ، ان سے تفتیش کی جائےگی ‘فیاض الحسن چوہان

لاہور (ٹوڈے پاکستان نیوز)قومی احتساب بیورو (نیب ) نے پانامہ سکینڈل میں جاری تحقیقات میں ہم پیشرفت کرتے ہوئے پنجاب کے سینئر وزیر اور پاکستان تحریک انصاف مرکزی رہنما عبدالعلیم خان کو مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا جنہیں ریمانڈ کے حصول کےلئے آج (جمعرات ) احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا ، سینئر وزیر پنجاب کی طرف سے استعفیٰ دینے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اپنے خلاف کیس اور گرفتاری کا عدالت میں سامنا کروں گا ،صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحن چوہان نے کہا ہے کہ نیب کو حق حاصل ہے کہ جو حکومتی عہدیدار، بیوروکریٹ کسی عہدے پر فائز ہو اسے مالی بدعندانی پر گرفتار کرسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیب لاہور سینئر وزیر پنجاب علیم خان کے خلاف بیرون ملک جائیداد، آمدن سے زائد اثاثوں اور آف شور کمپنی کے حوالے سے تفتیش کررہا ہے، وہ آخری مرتبہ 8 اگست کو نیب کے سامنے پیش ہوئے جس کے بعد انہیں ایک سوالنامہ دیا گیا اور 6 فروری کو طلب کیا گیا تھا۔اس سلسلے میں علیم خان چوتھی بار پیش کرنے کے لئے پونے گیارہ بجے کے قریب ٹھوکرنیاز بیگ پر موجود نیب کے دفتر پہنچے جہاں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج جس حوالے سے طلب کیا گیا اس پر واپسی پر بات کروں گا۔نیب کے دفتر سے عبدالعلیم خان کا اسٹاف اکیلے روانہ ہوا اور سینئر وزیر نیب کے دفتر سے باہر نہیں آئے۔نیب آفس میں پیشی کے موقع پر ان سے مختلف سوالات کیے گئے جبکہ 2گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی تحقیقات میں وہ نیب حکام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔نیب لاہور کی جانب سے جاری گرفتاری کی وجوہات کے مطابق عبدالعلیم خان کی جانب سے مبینہ طور پر پارک ویو کوآپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کے بطور سیکرٹری اور ممبر صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس کی بدولت پاکستان و بیرون ممالک میںمبینہ طور پر آمدن سے زاہد اثاثہ جات بنائے ۔ ملزم عبدالعلیم خان نے ریئل اسٹیٹ بزنس کا آغاز کرتے ہوئے کروڑوں روپے مذکورہ بزنس میں انویسٹ کیے ، علاوہ ازیں ملزم کی جانب سے لاہور اور مضافات میں اپنی کمپنی میسرز اے اینڈ اے پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام مبینہ طور پر 900کنال زمین خریدی جبکہ 600کنال مزید زمین کی خریداری کےلئے بیانہ رقم بھی ادا کی گئی تاہم ملزم عبدالعلیم خا مذکورہ زمین کی خریداری کےلئے موجودہ وسائل کے حوالے سے تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہے ۔ملزم عبدالعلیم خان نے مبینہ طور پر ملک میں موجود اثاثہ جات کے علاوہ 2005اور 2006ءکے دوران متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں متعدد آف شور کمپنیاں بھی قائم کیں جن میں ملزم کے نام موجودہ اثاثہ جات سے کہیں زیادہ اثاثے خریدے گئے جن کے حوالے سے نیب افسران تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم ملزم کی جانب سے ریکارڈ میں مبینہ ردو بدل کے پیش نظر ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے تاہم دوران گرفتاری ملزم کے اپنے اور دیگر بے نامی اثاثہ جات کے حوالے سے قانون کے مطابق تحقیقات رکھی جائیں گی ۔ نیب حکام ملزم عبدالعلیم خان کو گرفتاری کے بعد جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لئے آج (جمعرات ) احتساب عدالت کے روبرو پیش کریں گے تاکہ ملزم کے خلاف جاری تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا سکے ۔جبکہ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کا کہنا تھا کہ نیب بہتر قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات سرانجام دے رہا ہے جس میں پسند نا پسند کا تصور نہیں۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے ویژن کے مطابق کرپٹ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی جب کہ تمام میگا کرپشن مقدمات کی انتہائی شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں جنہیں جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سرکرداں ہیں۔ذرائع کے مطابق حراست میں لینے کے بعد نیب لاہور کے طبی ماہرین نے علیم خان کا طبی معائبہ بھی کیا جس کے بعد انہیں نیب حوالات منتقل کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق علیم خان کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے استعمال کے لئے جو اشیا گھر سے منگوانا چاہیں منگوا سکتے ہیں۔نیب ذرائع کے مطابق علیم خان کی گرفتاری سے متعلق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو بھی آگاہ کیا گیا عبدالعلیم خان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپنے خلاف کیسز کا سامنا کریں گے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ علیم خان جب تک نیب کے زیر تفتیش ہیں وہ کسی عہدے پر کام نہیں کریں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالعلیم خان کی جانب سے استعفیٰ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہےں ۔ عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ اپنے خلاف کیس اور گرفتاری کا عدالت میں سامنا کروں گا۔عدالت سے انصاف کی امید ہے ،،انشااللہ اس معاملے میں سرخروہوں گے ۔صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر کو نیب حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ نیب کو حق حاصل ہے کہ جو حکومتی عہدیدار، بیوروکریٹ کسی عہدے پر فائز ہو اسے مالی بدعندانی پر گرفتار کرسکتی ہے، اسی سلسلے میں علیم خان کے خلاف ایک کیس چل رہا تھا جس میں وہ دوسری بار پیش ہوئے، علیم خان نے ایک بار بھی نیب یا ریاستی اداروں کے خلاف نہیں بولا اور نہ ہی پنجاب حکومت یا پی ٹی آئی عہدیدار ایسا کریں گے، یہی فرق آلِ شریف، زرداری اور ہمارے درمیان ہے، یہ لوگ جب بھی آتے تھے اداروں پر لعن طعن کرتے تھے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ علیم خان ملزم ہیں اور نہ ہی مجرم، ان کے خلاف ابھی کوئی ریفرنس دائر نہیں ہوا۔فیاض الحسن چوہان نے علیم خان کے استعفے کی خبر کی تردید کی اور کہا کہ ابھی استعفے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی استعفیٰ وزیراعلی کو بھجوایا گیا ہے، ابھی نیب مزید تفتیش کرے گا اور پھر ریفرنس دائر کیے جانے کا فیصلہ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے