. بڑھتے ہوئے حادثات اور انتظامی کارروائیاں - Today Pakistan
Home / کالمز / بڑھتے ہوئے حادثات اور انتظامی کارروائیاں

بڑھتے ہوئے حادثات اور انتظامی کارروائیاں



پاکستان میں ٹریفک حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد،دیگر واقعات میں ہلاک ہونے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں ٹریفک حادثات کے واقعات پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن پاکستان میں ٹریفک حادثات کی شرح میںبے پناہ اضافہ ہو رہا ہے جس میں لاتعداد قیمتی جانیں تسلسل کے ساتھ لقمہ اجل بن رہی ہیں ایک اندازے کے مطابق ملک میں ہرسال اوسطاء17ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوجاتے ہیںجب کے ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد30 ہزار کے لگ بھگ ہے ان حادثات میں 40ہزار سے زائد افراد زخمی ہو کر عارضی یا مستقل معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ٹریفک حادثات اچانک وقوع پذیر نہیں ہوتے۔ ان حادثات کے رونما ہونے میں کہیںعوامل شامل ہیں جن میںسڑکوں کی تنگی ، توڑ پھوڑ، تیزرفتاری ،اوورٹیکنگ،لاپرواہی ،غیرذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی مہارت نہ ہونے یا اصول و قواعد سے عدم واقفیت اور لوڈنگ ناقص فٹنس بے خوابی یا ناتجربہ کاری اور دیگر کئی عوامل ایسے حادثات کے رونما ہونے کاسبب بنتے ہیں

ملک کے دیگر حصوں کی طرح بلوچستان میںبھی انہیں سالوں میں ٹریفک حادثات میں کہیں گنا اضافہ ہوا ہے ایک اندازے کے مطابق گزشتہ سال 2018 میں سو سے زائد ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے ہیں ان میں 400 سے زیادہ ہلاکتیں اورایک ہزار سے زیادہ زخمی یا معذور ہوئے یہ حادثات بیشتر کوئٹہ کراچی جیک آبادچمن روٹ اور دیگر قومی شاہراہوں پر رونما ہوئے ہیں آئے روز اخبارات میں حادثات کے حوالے سے افسوسناک خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات سے زیادہ خطرناک روڈ ایکسیڈنٹ ہیں اس سلسلے میں حکومتی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے لہذا صوبے میں حادثات کی روک تھام کے سلسلے میں عدالت عالیہ نے فوری طور پر حکم جاری کرتے ہوئے صوبے کے تمام قومی شاہراہوں پر تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنے والے بڑی لائٹس یا سرچ لائٹ لگانے والے اور انسانی جانوںسے کھیلنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈا¶ن کرنے کے احکامات صادر کیئے جس کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے تمام اداروں کمشنرزاور ڈپٹی کمشنرز کو آرڈرجاری کیے گئے ہیں کہ وہ قومی شاہراہ پرمسافروں کے تحفظ اور حادثات کی روک تھام کے سلسلے میںسخت سے سخت کاروایاں عمل میں لائیں۔اس سلسلے میںکمشنر کوئٹہ ڈویژن کی جانب سے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو ہدایت جاری کی گئی کہ حادثات کی روک تھام کے سلسلے میں دیگر اداروں اور محکموں کی مدد حاصل کرنے اور رابطہ کے فقددان کو ختم کر کے کارروائیوں کا آغاز کیا جائے اس سلسلے میں محکمہ ٹرانسپورٹ، ٹریفک پولیس ،ڈسٹرکٹ پولیس ،لیویز، ایکسائز وٹیکسیشن ،کسٹم ،نیشنل آئی وے اتھارٹی ،ہائی وے پولیس کے علاوہ موٹر وہیکل ایگزامنر پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دے کر قومی شاہراہوں پر تیزرفتاری کا مظاہرہ کرنے والوں میںسرچ لائٹس، اور لوڈنگ ،مسافروں کو چھتوں پر بٹھانے والے، مسافر بسوں میں مال برداری ،بغیر پرمٹ ،کاغذات نہ رکھنے والی گاڑیوں اور نان کسٹم پیڈگاڑیوں کے خلاف کارروائیاں سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی حبیب اللہ خان کی سربراہی میں شروع کی گئی ان کاروائیوںمیں کوئٹہ کراچی،کوئٹہ سبی اور کوئٹہ ژوب شاہراہ پر ناکے لگاکر گاڑیوں کی باقاعدہ چیکنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اب تک ان کارروائیوں میں کوئٹہ کراچی اور جیکب آباد قومی شاہرہ پر 294 پبلک اور مال بردار گاڑیوں پر لگی سرچ لائٹس،بیم لائٹس اور اضافی لائٹس اتار دی گئیں اسکے علاوہ 54 گاڑیوںکے کالے شیشے اور 42 فینسی نمبر پلیٹس بھی ہٹا دی گئیں جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 272 گاڑیوں کے چالان ،کاغذات اور پرمٹ کی عدم موجودگی پر 30 گاڑیوںکے چالان کیئے گئے،جعلی پرمٹ رکھنے پر 24 رکشوں اور14پک اپ کو بند کر دیا گیا اور کم عمر ڈرائیوروں کے خلاف کاروائی کے دوران 12 کم عمر ڈرائیوروں کو بھاری چالان بھی کیا گیاہے۔ دوسری جانب کوئٹہ کراچی شاہراہ پر بڑھتے ہوئے حادثات کے سلسلے میں کمشنر کوئٹہ قلات ڈویژن نے کوچز مالکان کو ہدایت جاری کی کہ وہ تیز رفتاری کے بجائے انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ حد کے مطابق سفر کرے اس سلسلے میں مختلف ناکوں پر ٹوکن سسٹم کا رجحان شروع کردیا گیا ہے جس سے حادثات میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔جب کہ سیکرٹری آرٹی اے قلات ڈویژن عائشہ زہری بھی قومی شاہراہ پر تیزرفتاری ،اور لوڈنگ ،سرچ لائٹس اور فٹنس کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف متواتر کارروائیاں کر رہی ہیں ا ن کارروائیوں کا مقصد صوبے میں دوران سفر عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی اور قانون کے مطابق ان پر عملدرآمد کرانا ہے کیوں کہ ان حادثات میں ڈرائیوروں کی غفلت اور گاڑیوںکی فٹنس کا عنصرزیادہ پایا جاتا ہے ایسی صورتحال میں انتظامیہ کی جانب سے قومی شاہراہوں پر کارروائیاں حادثات کی روک تھام میں کافی مددگار ثابت ہوسکتی ہیں اس کے علاوہ حکومتی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیتے ہوئے مکمل جانچ پڑتال اور تمام قواعد و ضوابط کے بعد ڈرائیوروں کو لائسنس جاری کئے جائیں اورہر ماہ پبلک گاڑیوں کی فٹنس چیک کی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ جوپبلک گاڑیوںمیں سفر کر رہے ہیں اس کی موجودہ حالت کیسی ہے قومی شاہراہوں پر تیزرفتاری کے روک تھام کے سلسلے میں ہائی وے پولیس کو بھی سخت کارروائی کرنی ہوگی ترقی یافتہ ممالک قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد سڑکوںکی تعمیر و گاڑیوں کو محفوظ بناکر ٹریفک حادثات میں نمایاںکمی لا چکے ہیں۔پاکستان میں روڈ سیفٹی کے قوانین موجود ہیں لیکن ان پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے اگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دینے کی روش اختیار کی جائے تو ٹریفک حادثات کی شرح میں کمی ممکن ہو سکتی ہے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بناناحکومت کی ذمہ داری ہے اس لئے ٹریفک پولیس اور متعلقہ حکام کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

اس مقصد کے لئے ٹریفک پولیس کے افراد کی بہترین اور جدید دور کے مطابق تربیت کرتے ہوئے ان کے مانیٹرنگ کے نظام کو سخت کیا جائے۔تاکہ کسی بھی قسم کی نا انصافی کی حوصلہ شکنی کی جائے۔بہتر نتائج کے لئے ضروری ہے کہ عوام اور ٹریفک پولیس کے درمیان عدم تعاون کی فضا کو دور کیا جائے۔ اس کے علاوہ میڈیا کو ریاست کے چوتھے ستون کا درجہ حاصل ہے اہل صحافت کو بھی ٹریفک حادثات کی روک تھام کیلئے عوام میںشعور اجاگر کرنے کی ذمہ داری نبھانی چاہیئے پرنٹ میڈیااور الیکٹرونک میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے عام آدمی میں شعور اجاگر کرنے میںبھی حکومت کاساتھ دیں۔ ٹریفک کے متعلق شعور کی بیداری کے لیے نصاب میں ٹریفک قوانین سے متعلق مضامین شامل کیے جائیںتاکہ نئی نسل کو مستقبل میں ٹریفک حادثات سے بچا¶ کے لئے تیار کیا جاسکے اس کے علاوہ عام شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹریفک کی پاسداری کرتے ہوئے سڑکوں کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ایسی ورکشاپس اور پروگرام کا انعقادکرنا چاہیے جس میں عوام الناس کے علاوہ ڈرائیور حضرات کی شرکت کوبھی یقینی بنایا جائے تاکہ انھیں پتہ ہو کہ ان کی کوتاہی اور غفلت کی وجہ سے کتنے خاندان متاثر ہو سکتے ہیںلہذا ایسے سرگرمیوں کی اشد ضرورت تھی جن سے حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کم کیا جا سکے۔اسی حوالے سے موجودہ حکومت مختلف خطوط پرکام کررہی ہے امید ہے بہت جلد اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے