. بی این پی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو گرانے کی حمایت کسی صورت نہیں کرے گی‘جہانزیب جمالدینی - Today Pakistan
Home / بلوچستان / بی این پی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو گرانے کی حمایت کسی صورت نہیں کرے گی‘جہانزیب جمالدینی

بی این پی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو گرانے کی حمایت کسی صورت نہیں کرے گی‘جہانزیب جمالدینی

بلوچستان سے 360لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایااور مزید 140افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے ،مرکزی سیکرٹری جنرل بی این پی

ڈیرہ اللہ یار (ٹوڈے پاکستان نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل و سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا ہے کہ بی این پی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو گرانے کی حمایت کسی صورت نہیں کرے گی اگرچہ اپنی ناقص کارکردگی کی بنا کر دونوں حکومتیں گر جاتی ہیں تو بی این پی سہارا نہیں دے گی وفاقی حکومت سردار اختر جان مینگل کی جانب سے پیش کردہ 6نکات میں سے صرف لاپتہ افراد کے ایک نقطے پر عمل کرچکی ہے جس کے بنا پر بلوچستان سے 360لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جاچکا اور مزید 140افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جاچکا ہے باقی 5نکات پر پی ٹی آئی حکومت سے بی این پی کے مزاکرات جاری ہیں نیشنل پارٹی سے ذاتی نہیں بلکہ نظریاتی اختلافات ہیں نیشنل پارٹی نادیدہ قوتوں کے ساتھ ہاتھ ملاچکی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کونسل ہال ڈیرہ اللہ یار میں ورکر کانفرنس سے خطاب اور صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ورکر کانفرنس میں بی این پی کے سابق ضلعی صدر احسان احمد کھوسہ سابق جنرل سیکریٹری دلشاد احمد کھوسہ مراد بلوچ مرزا خان مینگل صحبت پور کے ضلعی رہنماو¿ں جہان علی کھوسہ ایڈووکیٹ ٹکری خمیسہ خان بادینی علی اصغر بادینی نے سیکڑوں ساتھیوں کے ہمراہ شرکت کی ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ جب تک بلوچستان میں مزید دس انڈسٹریل زون کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا سی پیک کے حقیقی ثمرات سے بلوچستان کے عوام مستفید نہیں ہوسکتے سی پیک گوادر سے شروع ہوتا ہے بدقسمتی سے گوادر کے لوگ آج بھی پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بی این پی کسی بھی صورت شراکت داری کی حکومت کا حصہ نہیں بن سکتی وفاق اور صوبے میں ہمیشہ اقتدار ان کو ہی ملا جنہوں نے طاقتور قوتوں کیساتھ ہاتھ ملایا ہے بی این پی رہنمائ نے بلوچوں کے31سالہ طویل خونریزی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگوں سے ترقی اور خوشحالی نہیں آتی میر چاکر خان رند اور میر گہرام خان لاشاری نے آپس میں 31جنگیں لڑیں بڑے پیمانے پر قتل غارتگری کروائی لیکن کوئی بتائے کہ ان کی طویل جنگوں سے بلوچستان اور بلوچ قوم کو کیا فائدہ پہنچا ہے یہ وقت بندوق کی لڑائی کا نہیں بلکہ قلم اور کتاب سے علم حاصل کرکے اپنے احداف تک پہنچنے کا ہے ہماری انا پرستی دیمک کی طرح ہمیں اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کررہی ہے کارکنان انا پرستی کو ختم کرکے محبت اتحاد اور بھائی چارے سے ہی تبدیلی لاسکتے ہیں بی این پی جب بھی ساحل وسائل اور صوبے پر حق خودارادیت کی بات کرتی ہے تو ہمیں بندوق دکھائے جاتے ہیں میں ان قوتوں کو واضح بتادینا چاہتا ہوں کہ جب تک آپ ہمارے وسائل پر قابض رہیں گے ہماری جنگ جاری رہے گی نیشنل اور انٹر نیشنل فورمز پر جب بھی بلوچستان کے معدنیات کی لوٹ مار پر بات کرتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کے وسائل پاکستان کے ہیں لیکن پنجاب سندھ کے پی کے کے وسائل انکے صوبائی ہیں یہ استحصال نہیں تو کیا ہے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے مزید کہا کہ نصیرآباد ڈویڑن میں جاگیرادری نظام کے پنجے مضبوط ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام کو جدید اور ٹیکنالوجی کے دو ر میں بھی جاگیردار غلام بنائے ہوئے ہمیں عوام کو شعور دیگر جاگیرداری نظام سے باہر نکالنا ہوگا اور شعور آگہی کے لیے بی این پی اور بی ایس او کے رہنماو¿ں اور ورکرز کو بھر پور کام کرتے ہوئے بی این پی کو فعال بنانا ہوگا ورکر کانفرنس سے بی این پی کے مرکزی پروفیشنل سیکریٹری ڈاکٹر عبدالغفور بلوچ لیبر سیکریٹری منظور بلوچ بی ایس او کے مرکزی چیئرمین نذیر بلوچ ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے