. اصولی موقف کا سودا کیے بغیر دوبارہ بھارت سے مذاکرات کی بات کرینگے، شاہ محمود قریشی - Today Pakistan
Home / اہم خبریں / اصولی موقف کا سودا کیے بغیر دوبارہ بھارت سے مذاکرات کی بات کرینگے، شاہ محمود قریشی

اصولی موقف کا سودا کیے بغیر دوبارہ بھارت سے مذاکرات کی بات کرینگے، شاہ محمود قریشی

پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہا ہے،افغان مسئلہ کا واحد حل افغانوں کی قیادت میں افغانوں پر مشتمل سیاسی مفاہمت ہے

پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہا ہے،افغان مسئلہ کا واحد حل افغانوں کی قیادت میں افغانوں پر مشتمل سیاسی مفاہمت ہے

مسقط (نیوزڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت میں انتخابات ختم ہونے کے بعد اپنے اصولی موقف کا سودا کیے بغیر دوبارہ بھارت سے مذاکرات کی بات کرینگے ،پاکستان کا امن اور استحکام خطے کے ہمسایہ ممالک میں امن و استحکام سے منسلک ہے،پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہا ہے،افغان مسئلہ کا واحد حل افغانوں کی قیادت میں افغانوں پر مشتمل سیاسی مفاہمت ہے،امریکا بھی مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کا خواہشمند ہے،فروری میں سعودی قیادت پاکستان آرہی ہے،خطے میں سب سے بڑی دس ارب ڈالر کی آئل ریفائنری پاکستان میں لگائیں گے،میرٹ اور عزت میں کمی کی وجہ سے سرکاری شعبے میں لوگ نہیں آ رہے،ہم عزت ، میرٹ اور قانون کی بالادستی بحال کرینگے ،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کےلئے بانڈز جاری کریں گے ، سرمایہ کاری کرکے منافع کما سکیں گے،تبدیلی کا ایجنڈا آسان نہیں،احتساب کا خوف سب قوتوں کو اکٹھا کررہا ہے،مشکل حالات سے گھبراتے نہیں،پانچ سال بعد قوم کے سامنے اپنے آپ کو پیش کریں گے،خیبرپختونخوا کابینہ کا اگلا جلاس پشاور کے بجائے قبائلی علاقے میں ہوگا۔ گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عمان میں ملکی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی معاونت سے ہی تحریک انصاف کا وجود ممکن ہوا۔انہوںنے کہاکہ آپ لوگوں سے وصول کی گئی چھوٹی چھوٹی رقم کا بھی مکمل ریکارڈ موجود ہے۔انہوںنے کہاکہ وہ ریکارڈ الیکشن کمیشن کو بھی پیش کیا گیا۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ آپ لوگوں کو مایوس نہ کریں۔انہوںنے کہاکہ آپ کی توقعات پر پورا اترنے کےلئے ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ کمزور معیشت ورثے میں ملی۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ مالیاتی خسارہ انتہائی حد تک پہنچ چکا تھا ۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بین الاقوامی ادارے اور ماہرین یہ کہتے تھے کہ اس حد کے مالیاتی خسارے کا بوجھ پاکستان برداشت نہیں کرسکتا۔انہوںنے کہاکہ تجارتی خسارہ بھی تاریخی حد تک پہنچ چکا تھا،ادارے بتدریج زوال پذیر تھے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اداروں کی زبوں حالی کی وجہ سے ملکی افرادی قوت صلاحیتوں سے مالا مال ہونے کے باوجود سرکاری نوکری میں آنے سے کتراتی ہے۔انہوںنے کہاکہ میرٹ اور عزت میں کمی کی وجہ سے سرکاری شعبے میں لوگ نہیں آ رہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے وہ سکیورٹی عزت میرٹ قانون کی بالا دستی بحال کرنی ہے تاکہ پاکستان کا پڑھا لکھا طبقہ بھی سرکاری نوکری میں فخر محسوس کرے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم نے ملک میں اقتصادی سرگرمیوں اور کاروبار کے فروغ کےلئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔انہوںنے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کےلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے بانڈز جاری کریں گے جن میں وہ سرمایہ کاری کرکے منافع کما سکیں گے۔انہوںنے کہاکہ معاشرے کے کمزور طبقے کے سر پر چھت کیلے آئندہ پانچ سال میں پچاس لاکھ کم لاگت والے گھر بنائے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے نئے ڈیم بنانے ہیں پانی کی قلت کو دور کرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ وہ ماحول پیدا کریں گے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹر اور انجینئر بیرون واپس آ کے وطن کی خدمت کریں۔انہوںنے کہاکہ پوری دنیا میں اپنے سفارت خانوں اور سفیروں کو مراسلہ بھیجے ہیں کہ وہ پاکستانیوں سے شفقت اور عزت و احترام سے پیش آئیںاور باوقار طریقے سے ان کے مسائل کا حل کیا جائے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے سعودی عرب سمیت مختلف ممالک سے قیدیوں کے تبادلے پر بھی بات کی ہے۔انہوںنے کہاکہ کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں امن اور استحکام ہو۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان کا امن اور استحکام خطے کے ہمسایہ ممالک میں امن و استحکام سے منسلک ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہا ہے،پاکستان ہمیشہ سے کہتا آ رہا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ افغان مسئلہ کا واحد حل افغانوں کی قیادت میں افغانوں پر مشتمل سیاسی مفاہمت ہے۔انہوںنے کہاکہ آج دنیا نے اپنی سوچ بدلی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا نے افغانستان امن عمل میں پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹر لینڈسےگراہم نے بھی کہا ہے کہ امریکہ کی سوچ غلط جبکہ وزیراعظم عمران خان کی سوچ درست تھی۔انہوںنے کہا کہ امریکا بھی اب مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کا خواہشمند ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ امریکہ بھی مفاہمت کے عمل میں پیشرفت چاہتا ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں،90 ہزار کے لگ بھگ پاکستانی اس جنگ میں شہید ہوئے ہیں،ملکی معیشت کو 120 ارب کا نقصان ہوا۔انہوںنے کہاکہ قوم نے ہمت نہیں ہاری، دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑا۔انہو ںنے کہاکہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ مسائل ہیں۔انہوںنے واضح کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم و ستم ڈھا رہا ہے وہ پاکستان کو ہرگز قبول نہیں۔انہوںنے کہاکہ اس کے باوجود امن کا ہاتھ بھارت کی جانب بڑھایا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت اپنی داخلی سیاست کی وجہ سے ہچکچا رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم انتظار کریں گے، بھارت میں انتخابات ختم ہونے کے بعد اپنے اصولی موقف کا سودا کیے بغیر دوبارہ بھارت سے بات کریں گے۔انہو ںنے کہاکہ پانچ ماہ میں سعودی عرب سے تعلقات کو بحال کیا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی مالی مشکل میں سعودی عرب نے تین ارب ڈالر دیئے۔انہوںنے کہاکہ فروری میں سعودی قیادت پاکستان آرہی ہے۔انہوںنے کہاکہ وہ خطے میں سب سے بڑی دس ارب ڈالر کی آئل ریفائنری پاکستان میں لگائیں گے۔انہوںنے کہاکہ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد نے بھی تین ارب ڈالر پاکستان کے اکاو¿نٹ میں جمع کروائے ہیں۔انہوںنے کہاکہ قطر کے امیر نے بھی کہا ہے کہ پاکستان میں دیانت دار قیادت آگئی ہے وہ سرمایہ کاری کرنے کےلئے تیار ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان عمان انوسٹمنٹ کمپنی کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ پانچ دن کے نوٹس پر اپنی ٹیکنیکل ٹیم پاکستان لائیں گے۔انہو ںنے کہاکہ امریکی صدر نے بھی کہا ہے کہ وہ پاکستان کی نئی قیادت کو ملنے کا اشتیاق رکھتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم مشکل حالات سے گھبراتے نہیں،پانچ سال بعد قوم کے سامنے اپنے آپ کو پیش کریں گے۔انہوںنے کہاکہ قوم ہمیں تو لے گی کہ ہم ان کے معیار پر اترے ہیں یا نہیں۔انہوںنے کہاکہ 2013 کے مقابلے میں زیادہ ووٹوں سے ہمیں خیبرپختونخوا میں دوبارہ حکومت ملی۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ عوام نے ہم پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور ہم نے مرکز میں بھی حکومت بنائی۔انہوںنے کہاکہ آئندہ انتخابات میں انشاءاللہ سندھ میں بھی حکومت بنائیں گے۔انہوںنے کہاکہ سندھ کے بغیر وفاق نامکمل ہے۔انہوں نے کہاکہ فاٹا کے لوگوں نے سترہ سالوں میں بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ فاٹا کا انضمام کر کے ترقی کے مرکزی دھارے میں لا رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہاکہ فیصلہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کابینہ کا اگلا جلاس پشاور کے بجائے قبائلی علاقے میں ہوگا تاکہ ان کی تکالیف اور مشکلات کو حل کیا جائے۔انہوںنے کہاکہ تبدیلی کا ایجنڈا آسان نہیں،احتساب کا خوف سب قوتوں کو اکٹھا کررہا ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کے نوجوان پڑھا لکھا طبقہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سب کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمیں کسی کی پرواہ نہیں،ہم اپنی اصلاح کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے پورٹل بنایا ہے،ہم اداروں کی اصلاح کریں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ دفتر خارجہ نے ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا چیلنج قبول کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ دفترخارجہ نے معاشی سفارتکاری کا پروگرام کا آغاز کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ دفترخارجہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا،ہمیں نیا پاکستان بنانے کے لیے نئے جذبے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے