. کوئلہ کانوں میں مسلسل حادثات ....انسانی المیہ - Today Pakistan
Home / تجزیے و تبصریے / کوئلہ کانوں میں مسلسل حادثات ….انسانی المیہ

کوئلہ کانوں میں مسلسل حادثات ….انسانی المیہ

تحریر۔ مدثر ندیم

کوئلہ کانوں میں مسلسل رونما ہونیوالے حادثات حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہیں‘کوئلہ کانیں مزدوروں کی مقتل گاہ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہیں۔2018 ءمیں کوئلہ کانوں میں کام کرنیوالے تقریباً93 مزدور جاںبحق ہوئے ۔ ان مزدوروں میں سے اکثریت کا تعلق خیبرپختونخواہ کے پسماندہ ضلع شانگلہ اور افغانستان کے علاقوں سے تھا ۔ دسمبر2018ء میں ہونےوالے حادثے کے بعد حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنیوالے مزدوروں کے تحفظ کیلئے ٹھیکیداروں کو حفاظتی انتظامات کرنے کا پابند بنایا جائیگا لیکن جنوری 2019 ءکے ابتدائی 27 دنوں میں مزید 5حادثات رونما ہوئے جن میں19 مزدور جاںبحق ہوچکے ہیں ۔مزدور تنظیموں کے عہدیداروں کاکہنا ہے کہ کوئلہ کانوں میں آئے روز حادثات کی بڑی وجہ حفاظتی انتظامات کا نہ ہونا اورمائنزانسپکٹرزکی عدم موجودگی ہے جبکہ حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر کان مالکان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی جبکہ محکمہ مائنز کا کہنا ہے کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنےوالے مزدوروں کی جلد بازی کے سبب حادثات ہوتے ہیں ان کا موقف ہوتا ہے کہ مزدور کانوں میں جانے سے پہلے گیس کے نکالے جانے کا انتظار نہیں کرتے۔ غریب مزدور آج بھی سہولیات کے فقدان اور حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باوجود کام کرنے پر مجبور ہیں اتنے خطرناک حادثات ہونے کے باوجود ان کا دوبارہ انہی کانوں میں کام کرنے پر رضامند ہونا ثابت کرتا ہے کہ غربت کے ہاتھوں تنگ مزدور کتنے مجبور ہیں کہ وہ اپنے اہلخانہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے خطروں سے گھری کانوں میں کام کررہے ہےں ۔ جب بھی کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے تو حکومتی مشینری فعال ہوجاتی ہے لیکن کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے جارہے جس کی وجہ سے کان کنی کا شعبہ خطرناک شکل اختیار کرتا جارہا ہے ۔کانوں میں کام کرنیوالے مزدوروں کے تحفظ اور انہیں ضروری سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ صوبائی حکومت کے زیرانتظام باقاعدہ طور پر محکمہ کام کررہا ہے جس کا کام شعبہ کان کنی کی ترقی کیلئے اقدامات کرنا ‘مزدوروں کوفراہم کی جانیوالی سہولیات اور حفاظتی انتظامات کی نگرانی کرنا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ کوئلہ کانوں میں سینکڑوں حادثات ہونے کے باوجود کوئی سخت ایکشن نہیں لیا جاتا ‘ کسی ٹھیکیدار کا ٹھیکہ منسوخ نہیں کیا گیا نہ ہی انہیں کوئی جرمانہ یا جاںبحق مزدوروں کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے کا پابند کیا گیا جو کہ محکمہ مائنز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ حکومت کو سوچنا چاہئے کہ انہی مزدوروں کی وجہ سے ملک کی ترقی کا پہےہ چلتا ہے لیکن سرمایہ دار لیز مالکان پیسے بچانے کیلئے حفاظتی انتظامات کرنے میں غفلت برتتے ہیں ۔کوئلہ کانوں میں ہونیوالے حادثات کے بعد میڈیا بھی اپنی ذمہ داری نہیں نبھاتااور مزدوروں کی آواز بلند کرنے میں عار محسوس آر محسوس کی جاتی ہے‘ایسے حادثات کی خبر سے چونکہ ریٹنگ پر کوئی اثر نہیں پڑتا اس لئے یکسر نظر انداز کرکے ٹکر تک محدود رکھا جاتا ہے ۔تمام صورتحال کے پیش نظر حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے فوری طور پر سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے مزدوروں کو تحفظ فراہم نہ کرنیوالی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرکے ان کیخلاف سخت کاروائی کرے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے شعبہ کان کنی میں اصلاحات لائیگی اور مزدوروں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کمپنیوں کو پابند بنائے گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے