. بلوچستان میں طبی سہولیات کا فقدان - Today Pakistan
Home / اداریہ / بلوچستان میں طبی سہولیات کا فقدان

بلوچستان میں طبی سہولیات کا فقدان

صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے عالمی اداروں کے اشتراک و تعاون کو سراہاتاہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت کے جاری اصلاحاتی پروگرام میں بین الاقوامی ادروں کے حکام بلوچستان کی مجموعی صورتحال کی بہتری میںضروری اقدامات کووسعت دیں ۔ یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کے مختلف شعبہ جات کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔ ملاقات میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور صوبائی حکومت کے اشتراک و تعاون سے جاری مختلف پروگراموں پر بات چیت کی گئی اور ان اداروں کی معاونت سے پروگراموں میں مزید وسعت لانے اور زیادہ سے زیادہ عوام کو مستفید کروانے کیلئے مختلف امور پر غور و خوض کیا گیا اور صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کو ماڈل ہسپتال بنانے ، رضاکاروں کی تربیت اور صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز اور اسٹاف کی کمی دور کرنے پر بات چیت کی گئی ۔
بلوچستان میں بمشکل 38 فیصد افراد کو طبی سہولیات میسر ہیں ‘بلوچستان کے چند اضلاع ڈسٹرکٹ ہسپتالوں سے محروم ہیں‘ صورتحال اس قدر گھمبیر ہے کہ صوبے کے متعدد اضلاع میں تو میڈیکل اسپیشلسٹ ،گائناکالوجسٹ،چائلڈاسپیشلسٹ ،جنرل سرجن یافزیشن تعینات نہیں ہے اسی وجہ سے دور دراز علاقوں سے مریضوں کوکوئٹہ یا دوسرے بڑے شہروں کارخ کرناپڑتاہے۔ کوئٹہ میں بھی ہسپتالوں میں مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔ علاج کےلئے آنےوالے مریضوں کے مرض کی تشخیص تو ہوجاتی ہے لےکن سرکاری اسپتالوں میں ادویات دستیاب نہیں جس کے باعث انہےں مےڈےکل سٹورز سے ادویات خریدنا پڑتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں میں انسانی وسائل کی کمی ہے، خاص طورپرخواتین سٹاف اور ڈاکٹروں کی کمی کامسئلہ اہم ہے ، اس کے علاوہ اندرون صوبہ انفرااسٹرکچر کے علاوہ طبی عملے کےلئے بنیادی ضروریات میسر نہیں جس کی وجہ سے طبی عملہ بھی صحت کی سہولیات عوام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا نہےں کرپاتا ۔ اس تمام صورتحال سے صوبے کے غریب عوام براہ راست متاثر ہورہے ہےں ۔ گزشتہ 6 برس کے دوران شعبہ صحت کےلئے تقریباً ایک سو ارب روپے مختص کئے گئے،اتنی بڑی رقم کے باوجود صوبے میں صحت کے شعبے میں خاطرخواہ بہتری نہ آنا سوالےہ نشان ہے ۔ مسائل اور طبی سہولیات کے فقدان کے حوالے سے سانحہ 8 اگست کے بارے میں قائم عدالتی کمےشن نے بھی نشاندہی کی تھی ۔ عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتی ہےں لےکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اربوں روپے خرچ کئے جانے کے باوجود غریب عوام کو علاج کی سہولیات میسر نہیں۔صوبائی حکومت کو چاہئے کہ صحت کے شعبے کی بہتری کےلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں ،خاص طور پر اندرون صوبہ دوردراز علاقوں میں سرکاری اسپتال قائم کئے جائیں جبکہ پہلے سے موجود اسپتالوں کو فعال کیاجائے اور وہاں ادویات کے علاوہ صحت کی سہولیات پہنچائی جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے