. سوئی سدرن گیس کمپنی بلوچستان کے گھریلوں صارفین کو سیل پرائس فارمولے سے مستثنیٰ قرار دے، ارکان صوبائی اسمبلی - Today Pakistan
Home / اہم خبریں / سوئی سدرن گیس کمپنی بلوچستان کے گھریلوں صارفین کو سیل پرائس فارمولے سے مستثنیٰ قرار دے، ارکان صوبائی اسمبلی

سوئی سدرن گیس کمپنی بلوچستان کے گھریلوں صارفین کو سیل پرائس فارمولے سے مستثنیٰ قرار دے، ارکان صوبائی اسمبلی

کوئٹہ(ٹوڈے پاکستان نیوز) بلوچستان اسمبلی کااجلاس اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت سوا گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ثناءبلوچ کی جانب سے ضمنی سوال کے جواب میں نامزد طارق مگسی نے کہا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں یکساں بنیادیوں پر ڈیمز تعمیر کئے جائینگے جن اضلاع کو زیادہ مقدار میں ڈیمز ملے ہیں ان کا جائز لے رہے ہیں اجلاس میں اپوزیشن اراکین اختر حسین لانگو ،یونس عزیز زہری،احمد نواز بلوچ،سید فضل آغاکے ضمنی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سردار صالح بھوتانی نے کہا کہ جن اضلاع میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں ان کی تحقیقات کراتے ہوئے ذمہ داروں کو سزائیں دی جائینگے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے صفائی سے مطئین نہیں ہو جلد شہر کا تفصیلی دورہ کر کے ون ٹائم صفائی مہم شروع کر کے دکھائینگے کہ صفائی کیا ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں یونین کونسل کی سطح پررجسٹریشن کیلئے کمپیوٹرز فراہم کر دینگے اب تک 12لاکھ بچوں کی رجسٹریشن ہوچکی ہے انہوں نے کہاکہ محکمہ لوکل گورنمنٹ سے متعلق جن اراکین کو شکایات ہیں عوامی نمائندے اس کی نشاندہی کراتے ہوئے اس کی انکوائری سی ایم آئی ٹی محکمہ یا انتظامیہ جس سے وہ کروانا چاہیں ہم اس سے کرائینگے اجلاس میں گڈانی شپ بریکنگ یارڈ سے حاصل ہونے والے ریونیو سے متعلق ثناءبلوچ نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہا کہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ پر لنگر انداز ہونے والے جہازوں سے متعلق کوئی قوانین کا از سر نو جائزہ لینے کیلئے حکومت اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے انہوں نے کہا کہ 124جہاز لنگر انداز ہوئے ہیں جن سے تین لاکھ 10ہزار روپے یونیو کی مد میں حاصل ہوئی ہے صوبائی مشیر کھیل وثقافت خالق ہزارہ نے کہا کہ ریونیو سے متعلق از سر نو جائزہ لیا جارہا ہے محکمے نے 16اقدامات اٹھائے ہیں محکمے کی جانب سے ایوان میں اطمینان بخش جوابات دیئے گئے ہیں معزز اراکین ہمیں وقت دے محکمے میں مزید اصلاحات لارہے ہیں اجلاس میں نصر اللہ زیرے ،اختر حسین لانگو اور سید فضل آغا نے بھی کمیٹی کے قیام سے متعلق ثنائ بلوچ کے موقف کی تائید کی جس پر مشیر کھیل وثقافت اور اپوزیشن اراکین آپس میں الجھ پڑے ،مشیر کھیل وثقافت نے کہا کہ ایوان میں ہر کوئی کھڑا ہوکر ضمنی سوالات کررہا ہے جس پر اپوزیشن رکن سید فضل آغا نے کہا کہ ہم شرافت سے کام لے رہے ہیں ہر کوئی کا لفظ اسمبلی کی کارروائی حذف کی جائے یہ ڈسٹرکٹ کونسل کا حل نہیں صوبائی اسمبلی کا ایوان ہے جسے ہم مثالی بنانا چاہتے ہیں صوبے کے معاملات میں بہتری لانے کیلئے اپوزیشن کی تجاویز پر حکومتی اراکین کا سیخ پا ہونا باعث افسوس ہے حکومتی رکن قادرعلی نائل نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی اور مقدس ایوان کے تقدس کا علم ہے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ سے متعلق قوانین کا از سرنو جائزہ لیا جارہا ہے فضل آغا ایک سینئر پارلیمٹیرین ہے ان کی جماعت میں گزشتہ 40سالوں سے ایوان کو جس حالات میں چلایا ہم کو اس کا علم ہے خالق ہزارہ نے کہا کہ دکھ کی بات ہے سوالوں کے جوابات اطمینان بخش آئے ہیں میں تعاون ناظم رہا ہو ں ہاﺅس کے آداب بہتر جانتا ہوں ہو اپوزیشن مثبت تجاویز دے اس پر عملدرآمد کرینگے انہوں نے کہا کہ 2016کے بعد ایک ایس او پی بنائی گئی ہے جس کی 17نکات پر عملدرآمد کیا جارہا ہے اپوزیشن رکن اختر حسین لانگو نے کہا کہ کمیٹی کا قیام کوئی غلط بات نہیںحکومتی رکن دنیش کمار نے کہا کہ ہمارے دل میں بھی صوبے کے لئے اتنی ہی محبت ہے جتنا اپوزیشن اراکین کے دلوں میں ہے اسپیکر نے کہا کہ خالق ہزارہ کے قربانیوں کا اندازہ ہے وہ کام کرنا چاہتے ہیں ان کی کمیونٹی میں ان پر اعتماد کر کے انہیں ایوان تک پہنچا یاانہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے جذبات کے سامنے تحمل سے کام لینا حکومت کی ذمہ داری ہے ایک دو ماہ تک محکمے کوکام کرنے کا موقع دیا جائے ثناءبلوچ نے کہا کہ مثبت تجاویز پر دوستوں کے درمین جھگڑا ہونا باعث افسوس ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اگر کمیٹی نہیں بنا نا چاہتی تو نہ بنائے ہم اپوزیشن اراکین کی کمیٹی بنا کر کمیٹی گڈانی جائینگے جس کیلئے ہمیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو نے کہا کہ ہم اپوزیشن کی تنقید کو ہمیشہ سے سنتے آرہے ہیں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا اندازہ ہے اپوزیشن کی دوست اپنی کمیٹی بنانا چاہتے ہیں تو ضرور بنائیں تاہم امید ہے کہ اپوزیشن کی دوست اپنے رویے میں بھی تبدیلی لائینگے ایوان میں اپوزیشن کے رکن واحد صدیقی کے ضمنی سوال کے جواب میں مشیر انرجی مبین خلجی نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے حلقے کے گریڈاسٹیشن کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی کے بجلی سے متعلق زیر التواءمنصوبوں کو جنگی بنیادوں پر حل کرائینگے بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناءبلوچ نے ریسکیو سروس 1122کے حوالے سے اپنے سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان میں اکثر اوقات حادثات ہوتے رہتے ہیں جس کی تازہ مثال بیلہ کے قریب ہونے والا حادثہ ہے جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئی لیکن بلوچستان میں کہیں ریسکیو کے ادارے نہیں ماضی میں کوئٹہ میں ریکسیو کے حوالے سے نوجوانوں کو تربیت دی گئی مگر ان کو مستقل بنیادیوں پر تعینات کرنے کے بجائے عارضی بنیادیوں پرتعینات کیا گیا ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تربیت یافتہ ریسکیو ملازمین کومستقل کیا جائے اور ان تمام ملازمین کو ان کے اپنے اپنے اضلاع میں تعینات کر کے وہاں پر ریسکیو 1122کے سینٹر قائم کئے جائے تاکہ سانحہ لسبیلہ کی طرح کا کوئی حادثہ پیش نہ آئے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں یہ ملازمین بہتر انداز میں خدمات سرانجام دے سکے صوبا ئی داخلہ و پی ڈی ایم اے میر ضیاء لانگو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں آج ہی وزیر اعلیٰ کی صدارت میں اجلاس ہوا ہے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے کام کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناءبلوچ نے اپنے سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت بلوچستان میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کیلئے اسکولوں کی تعداد انتہائی کم ہے انہوں نے زور دیا کہ بچیوں کیلئے بھی اسکول قائم کئے جائیں بچیوں کو تعلیم یافتہ بنا کر ہم ترقی کرسکتے ہیں جس پرصوبائی وزیر تعلیم محمد خان لہڑی نے کہا کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے کام کررہی ہے اورآئندہ پانچ سال کے دوران صوبے میں لڑکیوں کے اسکولوں کی تعداد لڑکوں کے اسکولوں کے برابر لے آئینگے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے اکبر مینگل نے مشترکہ توجہ دلاو نوٹس ایوان میں پیش کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ لیبر اپیلٹ ٹربیونل بلوچستان کی جانب سے لیبر اپیل نمبر 10/2017کے تحت محکمہ مواصلات وتعمیرات کے 351ملازمین کی سروس پر بحالی اور ان کے بقایا جات ادا کرنے کے حق میں فیصلہ دیا ہے اگر الف کا جواب اثبات میں ہے تو حکومت نے ان ملازمین کی ملازمتوں پر بحالی اور ان کے بقایا جات کی ادائیگی کے حوالے سے کونسے اقدامات اٹھائے ہیں نیز اس سلسلے میں محکمہ ہذا کی جانب سے اپنائی جانے والی پالیسی کی تفصیل بھی دی جائے جس پر وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے فیصلہ آنے تک اس پر بات نہیں کرسکتے۔ اجلاس میں جمعیت علمائ اسلام کے مولانا نور اللہ کی جانب سے توجہ دلاونوٹس ایوان میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ فیڈرل بورڈآف ریونیو کی جانب سے جاری کردی نوٹیفکیشن نمبر ایس آ او نمبر 1155 مورخہ 24 فروری 2016 کے تحت بمقام بادینی قلعہ سیف اللہ پاک افغان سرحد پر مختلف سامان دونوں برادر ممالک لانے اور لینے جانے سے متعلق کسٹم ہاوس قائم کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے اگر جواب اثبات میں ہے تو کسٹم ہاوس کے قیام پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا جارہا ہے کیا صوبائی حکومت اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے رکن اسمبلی نصر اللہ زیرے نے بھی ایوان میں پاک افغان سرحد ی شہر چمن تجارتی گیٹ کو آمد رفت کیلئے 24 گھنٹے کھولنے اور لوگوں کو سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا اجلاس میں اختر حسین لانگو نے نوشکی کے سرحدی علاقے کو بھی توجہ دلاو نوٹس میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا قائد ایوان جام کمال خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور وفاقی وزیر عبدالرزاق داود سے ملاقات میں صوبائی حکومت نے ایران اور افغانستان بارڈرسے منسلک تجارتی زون کی تعمیر سے متعلق بات کی ہے انھوں نے کہا کہ سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی پر اسپیکر نے توجہ دلاو نوٹس نمٹادی گئی اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن اراکین کی جانب سے مشترکہ قرارداد پیش کی گئی مشترکہ قرارداد بی این پی کے میر محمد اکبر مینگل نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان گزشتہ کئی سالوں خشک سالی سے متاثر رہاہے جس کی وجہ سے صوبے کے عوام معاشی ابتری کا شکار ہے حالیہ سرد موسم کی وجہ سے گریلو صارفین اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے سوئی گیس کا استعمال نسبتاً موسم گرما سے زیادہ استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے سوئی سدرن گیس کی سیل پرائس کی وجہ 10000 سے 15000روپے ماہانہ بل ادا کرنے پڑھتے ہیں جو کہ غریب عوام کے دسترس سے باہر ہے لہذا ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ بلوچستان کے گھریلوں صارفین کو سیل پرائس فارمولے سے مستثنیٰ قرار دے کر موسم سرما کے لئے گھریلو صارفین کے بل کی ایک مخصوص حد مقرر کی جائے تاکہ صوبہ کے غریب عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور احساس محرومی کا خاتمہ ممکن ہوسکے بعدازیں ایوان میں رائے سے اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے مشترکہ قرار داد کی منظوردی ہے۔ اجلاس میں قحط سالی سے متعلق صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو پانچ ماہ ہوئے ہیں سابق ادوار میں مخلو ط صوبائی حکومت میں شامل جماعتوں کے سربراہاں وزیراسظم کے دائیں اور بائیں بیٹھے تھے اس کے باوجود انہوں نے کوئٹہ شہر کی بہتری کیلئے کچھ نہیںکیا۔ اس وقت کی حکومت نے ایک تحصیل کو 300 ڈیمز دیئے اور اخر میں کوئٹہ کو پٹ فیڈر کینال سے پانی کی فراہمی کا ناممکن تصوراتی منصوبہ کوئٹہ کے شہریوں کو دینے کااعلان کرکے عوام کو لولی پاپ سے ٹرخانہ کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب اور صدر مملکت نے جلد کوئٹہ کا دورہ کرکے پانی کے مسئلہ کے دیر پا حل کیلئے اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مشیر ملک نعیم بازئی نے کہا کہ بلوچستان کے 18 اضلاع میں ایک لاکھ سے زائد افراد خشک سالی سے متاثر ہیں جس سے میرا حلقہ انتخاب بھی شامل ہے پی ڈی ایم اے کو چائیے کہ وہ ہمارے حلقے میں بھی امدادی سامان فراہم کرے رکن صوبائی اسمبلی عبدالرشید لالا نے کہا کہ میرا حلقہ انتخاب خشک سالی سے شدید متاثر ہوا ہے ہمیں راشن دینے کی بجائے پانی کی ٹینیکیں فراہم کی جائیں کیونکہ ہمارے حلقہ کے لوگ راشن سے نہیں بلکہ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ اجلاس میں زینت شاہوانی نے کہا کہ بلوچستان کے اکثر علاقہ خشک سالی سے متاثر ہوئے ہیں اگر متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کے ساتھ ساتھ بچوں کیلئے بکسٹ اور غذائی اشیاء بھیجی جائیں صوبائی وزیر پی ڈی ایم اے میر ضیا ءلانگو نے کہا کہ بلوچستان کے کئی اضلاح قحط سالی سے متاثر ہیں کابینہ نے متاثرہ علاقوں کو قحط زدہ قرار دیا ہے اسلام آباد میں ڈزاسٹر مینجمنٹ حکام سے ملاقات ہوئی ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد بلوچستان کے متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی سامان روانہ کریں گے بعد شدید خشک سالی اور غذائیت کے بحران پر بحث مکمل ہونے پر اسپیکر نے کہا کہ موجودہ حکومت خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے اور صوبے میں حکومت عوام کی فلاح وبہبود کیلئے پالیسی مرتب کرکے مزید بہتری لائیگی ، جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس آج سپہ پیر تین بجے تک ملتوی کردیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے