. ہمیں اپنے تمام اداروں کو مزید بہتر اور فعال بنانا ہوگا،وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان - Today Pakistan
Home / بلوچستان / ہمیں اپنے تمام اداروں کو مزید بہتر اور فعال بنانا ہوگا،وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان

ہمیں اپنے تمام اداروں کو مزید بہتر اور فعال بنانا ہوگا،وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں آفات سے نمٹنے کے لئے جامع میپنگ کے سلسلے میں سپارکو سے رابطہ کیا جائے جس سے درست ڈیٹا حاصل کرنے میں مدد ملے گی

کوئٹہ(خ ن )وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت پراوینشل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کا اجلاس جمعرات کے روز یہاں وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ صوبائی وزیرداخلہ میر ضیاءلانگو، بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ، چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اخترنذیر، محکمہ خزانہ، داخلہ، صحت کے سیکریٹریز،سینئر ایم بی آر اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمران زرکون نے اجلاس کو پراوینشل ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور کمیشن کے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیشن کو فعال اور مربوط بنانے کے لئے ضروری ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان، آئی ٹی یونیورسٹی، پولیس اور پرائیویٹ سیکٹر سے ممبران کوبھی اس کا حصہ بنایا جائے، بلوچستان کے مختلف اضلاع میں آفات سے نمٹنے کے لئے جامع میپنگ کے سلسلے میں سپارکو سے رابطہ کیا جائے جس سے درست ڈیٹا حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور علاقے میں آفات، سیلاب اور قحط سے ہونے والے نقصانات کی درست معلومات حاصل کی جاسکیں گی، اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صوبے میں قحط سالی سے جتنے لوگ شدید متاثر ہوئے ہیں ان کا مکمل ڈیٹا جمع کرکے ان کی جامع پروفائل بنائی جائے گی جسے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ضرورت پڑنے پرشیئر کیا جاسکے گا، وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہدایت کی کہ قحط سالی سے ہونے والے نقصانات کی مکمل اور درست معلومات کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی اور آئی ٹی یونیورسٹی کے ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے شعبہ ان پر اپنا تھیسز اور ریسرچ پیش کریں اور متعلقہ ادارے ان سے مکمل تعاون کریں جس سے معیشت، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں پر پڑنے والے اثرات اور ان سے نمٹنے کی بہتر حکمت عملی مرتب کرنے میں مدد ملے گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ساحلی شہر بالخصوص گوادر، پسنی، گڈانی، اورماڑہ اور ڈام جہاں سونامی کا خطرہ ہے وہاں بروقت اور بہترحکمت کی ضرورت ہے، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے کے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنر سیلاب کی گزرگاہوں کی نشاندہی کریں تاکہ سیلاب آنے سے پہلے اقدامات اٹھانے میں آسانی ہو، اجلاس میں طے کیا گیا کہ آفات آنے کی صورت میں امدادی اشیاءخوردونوش مقامی بازاروں سے خریدی جائیں گی تاکہ مقامی تاجروں کو فائدہ حاصل ہو تاہم چیزوں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائےگا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں اپنے تمام اداروں کو مزید بہتر اور فعال بنانا ہوگا، اگر متعلقہ ادارے اپنا کام سنجیدگی سے سرانجام دیں گے تو دوسرے اداروں پر ان کا بوجھ نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ آفات سے نمٹنے کے لئے ہمیں اپنے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے اور اس سلسلے میں حکومت تمام وسائل بروئے کار لائیگی وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ آفات سے متعلق سکول کی سطح پر آگاہی پیدا کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے