. لورالائی واقعہ انتہائی افسوسناک ہے ، ضائع ہونے والی انسانی جانوں کی تلافی ممکن نہیں،اراکےن بلوچستان اسمبلی - Today Pakistan
Home / Uncategorized / لورالائی واقعہ انتہائی افسوسناک ہے ، ضائع ہونے والی انسانی جانوں کی تلافی ممکن نہیں،اراکےن بلوچستان اسمبلی

لورالائی واقعہ انتہائی افسوسناک ہے ، ضائع ہونے والی انسانی جانوں کی تلافی ممکن نہیں،اراکےن بلوچستان اسمبلی

سیکورٹی اہلکار محدود وسائل میں رہتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنارہے ہیں،حکومت خشک سالی سے متاثرہ علاقوںکیلئے پیکج سے متعلق وفاقی حکومت سے رابطہ کرے

خشک سالی کے اثرات ہمارے معیشت ، زراعت اور لائیوسٹاک پر مرتب ہوئے ہیں بلوچستان کے لوگ پینے کے پانی کے لئے ترس رہے ہیں

حکومت کوئٹہ میں واٹر سپلائی پراجیکٹ کی مد میں ستائیس ارب روپے کی تحقیقات کرائے اور زیر تعمیر مانگی ڈیم پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے،ارکان صوبائی اسمبلی کااسمبلی اجلاس میں اظہارخیال

کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ دس منٹ کی تاخیر سے سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس میں رکن اسمبلی میر جان محمد جمالی نے ایوان کی توجہ گزشتہ روز لورالائی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی طرف مبذول کراتے ہوئے ایوان میں شہداءکے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی کی استدعا کی جس پر ایوان میں شہداءکے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔ علاوہ ازیں اجلاس میں باران رحمت کے لئے خصوصی دعا بھی کی گئی ۔ میر جان محمد جمالی نے کہا لورالائی واقعہ انتہائی افسوسناک ہے واقعے میں ضائع ہونے والی انسانی جانوں کی کوئی تلافی ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اہلکار محدود وسائل میں رہتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنارہے ہیں شدید بارش میں بھی آج وہ بغیر کسی رین کوٹ کے ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں ۔صوبائی وزیر اسد بلوچ نے نجی ٹی وی چینل پر اپنی کردار کشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ بیلہ میں 27لوگ لقمہ اجل بنے ان کی چیخ و پکار کی آوازیں میرے کانوں میں اب بھی گونجتی ہیں ایسا واقعہ میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ21جنوری کو رونما ہوا 22تاریخ کو میں شہید ہونے والے افراد کی لاشیں لانے کے لئے کراچی گیا 700کلو میٹر بذریعہ ایمبولینس ہم نے پنجگور پہنچائیں اور وہاںانہیں سپرد خا ک کیا گیا ایک نیو زچینل پر بیٹھے اینکر نے تصویر کو جواز بنا کر میری کردار کشی کی ہے جس سے میرا اسحقاق مجروح ہوا ہے بلوچستان میں بہت سے مسائل حل طلب ہیں چالیس لاکھ روپے تنخواہ لینے والے اینکر ان مسائل پر توجہ کیوں نہیں دیتے کبھی کسی سردار اور کبھی کسی رکن کے خلاف بات کرتے رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ زرد صحافت کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ میرا استحقاق مجروح ہوا ہے لہٰذا سپیکر اینکر کے خلاف لیٹر لکھیں ۔اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران نصراللہ زیرئے اور اختر حسین لانگو کی جانب سے محکمہ کھیل سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جوابات پرخود صوبائی مشیر کھیل عبدالخالق ہزارہ نے عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمے کے جوابات سے میں خود مطمئن نہیں ہوں تسلی بخش جوابات نہ دینے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ محکمے نے مجھے بائی پاس کرکے جوابات ارسال کئے ہیں لہٰذا سوالات کے جوابات آئند ہ اجلاس تک کے لئے موخر کئے جائیں اختر حسین لانگو نے عبدالخالق ہزارہ کو داد دیتے ہوئے کہا کہ عبدالخالق ہزارہ نے خلاقی جرات کا مظاہرہ کیا ہے توقع ہے کہ آئندہ اجلاس میں پوچھے گئے سوالات کے تسلی بخش جواب آئیں گے۔اجلاس میں محکمہ بی ڈی اے کے ملازمین کی عدم مستقلی کی نشاندہی کرتے ہوئے جے یوآئی کے محمد نواز کاکڑ اور اختر حسین لانگو نے کہا کہ سابق دور حکومت میں ملازمین کی مستقلی سے متعلق قرار داد منظور ہوئی تھی اور کابینہ نے بھی ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی ملازمین کی مستقلی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے بی ڈی اے کے عارضی ملازمین کو مستقل کیا جائے جس پر سپیکر نے اس معاملے پر وزیراعلیٰ سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔اجلاس میں نصراللہ زیرئے نے لورالائی میں ڈی آئی جی آفس پر ہونے والے حملے سے متعلق تحریک التواءپیش کرتے ہوئے کہا کہ 29جنوری کو ڈی آئی جی آفس لورالائی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میںمتعدد افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں واقعے سے عوام میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے لہٰذا ایوان کی کارروائی روک کر اس فوری نوعیت کے مسئلے پر بحث کرائی جائے ۔ بعدازاں تحریک التواءکو بحث کے لئے منظور کرتے ہوئے سپیکر نے تحریک التواءپر یکم فروری کو بحث کرانے کی رولنگ دی ۔اجلاس میں قائد حزب اختلاف ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے بلوچستان میں شدید خشک سالی اور غذائیت کے بحران پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کے تمام اضلاع کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے ان اضلاع میں خشک سالی اور غذائیت کے بحران کے خاتمے کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے اور صوبائی حکومت وفاق سے خصوصی پیکج کے حصول کے لئے رابطہ کرے ۔انہوں نے کہا کہ خشک سالی کے اثرات ہمارے معیشت ، زراعت اور لائیوسٹاک پر مرتب ہوئے ہیں بلوچستان کے لوگ پینے کے پانی کے لئے ترس رہے ہیں باغات ، ٹےوب ویلزخشک ہوچکے ہیں قدرتی آفت نے لوگوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے انہوںنے کہا کہ حکومت کوئٹہ میں واٹر سپلائی پراجیکٹ کی مد میں ستائیس ارب روپے کی تحقیقات کرائے اور زیر تعمیر مانگی ڈیم پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں ہونے والی تعیناتیوں میں بے ضابطگی سے متعلق قائم کمیٹی کی تحقیقات سے ایوان کو آگاہ کیا جائے انہوںنے کہا کہ حکومت او راپوزیشن دونوں نے صوبے سے بدانتظامی کے خاتمے کا عہد کیا ہے ہم نہ صرف بدانتظامی کی نشاندہی کریں گے بلکہ ملوث عناصر کو سزا بھی دیں گے حکومت نے پانچ مہینوں کے بعد بھی پی ایس ڈی پی کو عملی شکل نہیں دی جس سے پی ایس ڈی پی تاخیر کی شکار ہے اور صوبے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے انہوںنے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں تمام حلقوں کو یکساں توجہ دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کے حلقہ ہائے انتخاب میں مداخلت ہورہی ہے جس سے وزیراعلیٰ کو بھی آگاہ کردیا ہے واشک ، خاران اور خضدار کے عوامی نمائندوں کو اعتماد میںلئے بغیر وہاں افسران کی تقرریاں اور تبادلے کئے جارہے ہیں واشک میں سپرنٹنڈنٹ سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ وہاں کے ایم پی اے کی بات نہ مانیں جو قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قحط اور خشک سالی کے شکار اضلاع کو آفت زدہ قرار دے کر صوبائی حکومت این ایف سی ایوارڈ سے رقوم کی فراہمی کے لئے وفاق سے رابطہ کرے ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناءبلوچ نے کہا کہ خشک سالی اور قحط سالی ایک قومی المیہ ہے جس کے اثرات آئندہ چالیس سالوں تک موجودرہیں گے حکومت سیف سٹی پراجیکٹ پر 9ارب روپے خرچ کررہی ہے یہ رقم سیف سٹیزن منصوبے کے تحت قحط کا شکار لوگوں کی بھوک و افلاس کے خاتمے کے لئے خرچ کرے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 83.4فیصد لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں 90لاکھ کے قریب آبادی بھوک سے بلک رہی ہے 62فیصد لوگوںکو پینے کاصاف پانی تک میسر نہیں80فیصد آبادی کو صحت کی سہولیات میسر نہیں 70فیصد بچے اپنی زندگی کا پانچواں سال نہیں دیکھ پاتے ایک لاکھ ماﺅں اور بہنوں میں950دوران زچگی موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ 5نومبر کو ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ہم نے قرار داد پیش کی کہ بلوچستان کے قحط اور خشک سالی سے متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دے کر وہاں ڈویلپمنٹ ایمرجنسی نافذ کی جائے تاکہ وہاں بھوک افلاس غربت بے روزگاری اور دیگر مسائل کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے صوبائی حکومت پی ایس ڈی پی میں خشک سالی سے نمٹنے کے لئے دیرپا منصوبہ بندی کرے چند ملی میٹر بارش صوبے کی خشک سالی اور بھوک کا علاج نہیں خشک سالی کے برے اثرات ہمارے معاشی ، معاشرتی ، صحت ، روزگار سمیت ہر شعبے پر مرتب ہوئے ہیں ۔پاکستان نے اقوام متحدہ کے ساتھ پائیدار ترقی کے اہداف کے لئے دستخط کئے ہیں جس پر عملدرآمد کے ہم پابند ہیں حکومت نے اقوام متحدہ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے تمام علاقوں سے یکساں طو رپر بھوک اور غربت کا خاتمہ کرے گی انہوں نے کہا کہ خشک سالی سے ہمیں چار سے پانچ سو ارب روپے کا سالانہ نقصان ہورہا ہے عوام کو صاف پانی کی فراہمی سے صحت کے بجٹ میں کمی آئے گی بنگلہ دیش اور ایتھوپیا بھوک کے خاتمے سے متعلق عملی مثالیں ہیں انہوں نے اپنے لوگوں پر توجہ دی آج ان کا فارن ایکسچینج ہم سے کئی گنا زیادہ ہے ۔انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ مہینوں کے دوران صوبائی حکومت کی توجہ صرف صرف وزراءکے قلمدان تبدیل کرنے اور افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ پر مرکوز رہی ہے ۔ انہوں نے استدعا کی کہ بلوچستان کے خشک سالی سے متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرا ردے کر پی ایس ڈی پی میں غربت بھوک و افلاس کے خاتمے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر رقم مختص کی جائے ۔ جے یوآئی کے سید فضل آغا نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور غلط منصوبہ بندی کے باعث آج صوبے کے عوام کو پینے کا پانی تک میسر نہیں ہے قدرتی چراہگاہیں خشک ، زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں قدرتی جنگلات کو ایندھن کے حصول کے لئے بے دریغ طریقے سے کاٹا جاتا رہا زیر زمین پانی کی سطح بھی دن بدن تیزی سے نیچے چلی جارہی ہے انہوںنے کہا کہ خشک سالی ہمارے جغرافیہ پر اثر انداز ہورہی ہے متاثرہ علاقوں سے لوگ سندھ اور پنجاب کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں حکومت اس عوامی نوعیت کے مسئلے پر فوری توجہ دے ۔ پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہمارے صوبے میں گزشتہ چند سالوں کے دوران پچاس لاکھ درخت کاٹ دیئے گئے ہزاروں کی تعداد میں مال مویشی ہلاک ہوئے لوگ اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں کا رخ کررہے ہیں عوامی نیشنل پارٹی کی شاہینہ کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے تقریباً تمام علاقے خشک سالی سے متاثر ہیں ہمارے عوام کا ذریعہ روزگار زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ ہے اور یہ دونوںشعبے تباہی ہونے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے انہوںنے زور دیا کہ پی ڈی ایم اے کو متاثرین کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کئے جائیں ۔ صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے بعض اضلاع کو آفت زدہ قرا ر دیا گیا ہے جبکہ اس وقت پورا صوبہ شدید خشک سالی کا شکار ہے جس کے باعث زراعت او رمالداری کے شعبے تباہ ہوچکے ہیں میرے ضلع کو اگرچہ آفت زدہ قرار نہیںد یا گیا مگر وہاں 220سے زائد بورنگ خشک ہوچکے ہیں اس سے خشک سالی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے انہوںنے تجویز دی کہ پورے صوبے کو آفت زدہ قرار دے کر پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرین کو امداد فراہم کی جائے ۔ جمعیت العلماءاسلام کے یونس عزیز زہری نے کہا کہ بلوچستان میں تو بدقسمتی سے ستر سال سے یہ سلسلہ چل رہا ہے موجودہ حکومت کے چھ مہینوں میں بھی یہ سلسلہ رک نہیں سکا صوبائی حکومت عوام کو کچھ نہیں دے سکی میرے ضلع کی آبادی آٹھ لاکھ سے زیادہ ہے جس کی نصف سے زیادہ آبادی خشک سالی سے متاثر ہے مگر پی ڈی ایم اے نے صرف ایک ہزار افراد کے لئے امداد فراہم کی یہ امر افسوسناک ہے کہ متاثرین کے لئے ٹینٹ کمبل واٹر کولر اور برتن بھیجے گئے ہیں اس سے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے سامان بھیج کر خشک سالی سے نمٹنے کی کوشش کی جارہی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے