. پرُ عزم اور عوامی قائد ‘وزیر داخلہ بلو چستان میر ضیا ءاللہ لانگو  - Today Pakistan
Home / تجزیے و تبصریے / پرُ عزم اور عوامی قائد ‘وزیر داخلہ بلو چستان میر ضیا ءاللہ لانگو 

پرُ عزم اور عوامی قائد ‘وزیر داخلہ بلو چستان میر ضیا ءاللہ لانگو 

رپورٹ ۔ نجیب بلوچ
پر عزم، پر اعتماد، عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار، بلوچستان عوامی پارٹی کے نوجوان رکن صوبائی اسمبلی، صوبائی وزیر داخلہ, قبائلی امور و پی ڈی ایم اے میرضیا اللہ لانگو نے تیس دسمبر 2018 کو اپنے وزارت کا قلمدان سنبھالا۔قبل ازیں میرضیاءاللہ لانگو بحیثیت صوبائی وزیر جنگلات و جنگلی حیات خدمات انجام دیتے رہے ۔ ہیں اور محکمہ جنگلات میں چند ماہ کے اندر غور طلب اصلاحات کئے ۔ جنگلی حیات اور ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار بلوچستان میں پائے جانے والے مارخور اور ہرن کے شکار، زیارت اور ہربوئی پہاڑ میں جونیپر کے درختوں کی بے دریغ کٹائی پر پابندی عائد کی ۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو ضلع قلات کے تحصیل خالق آباد سے تعلق رکھتے ہیں ان کا تعلق خالق آباد کے ایک معروف سیاسی وقبائلی گھرانے سے ہے۔ انہوں نے کافی نشیب و فراز اور مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہے۔اس سے ان کے بڑے بھائی سابق مشیر خزانہ میر خالد خان لانگو بھی اسے نشست اسی صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے جنہوں نے خالق آباد و قلات کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ بلوچستان کو درپیش امن و امان کی صورتحال، دہشتگردی، شرپسندی ،خشک سالی اور لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل اور محکمہ داخلہ کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے حکومت بلوچستان کے لئے میر ضیاءاللہ لانگو حکومتی بینچ میں سب سے موضوع شخصیت میں اسی لئے ان کے کندھوں پر وزارت داخلہ، قبائلی امور و پی ڈی ایم اے کی ذمہ داری ڈالی گئی۔صوبائی وزیر روزاول ہی مسائل کے حل کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اظہار ہمدردی کیلئے لاپتہ افراد کے کیمپ میں گئے، پریس کلب کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم رہنماو¿ں ماما قدیر بلوچ اور نصراللہ بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور انہیں لاپتہ افراد کی بازیابی کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے- اس یقین دہانی کے چند روز بعد ہی لاپتہ افراد کا منظر عام پر آنا شروع ہوا ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی اور صوبائی وزیر داخلہ کی مخلصانہ اور سنجیدہ کاوشوں کی بدولت آپ تک 25 سے زائد لاپتہ افراد اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں جن میں سے بعض افراد سات یا آٹھ سالوں سے لاپتہ تھے۔ اسی تناظر میں صوبائی وزیر نے اپنے بیانات میں بارہا یقین دہانی کرائی کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے تمام بااختیار اداروں اور ان کے سربراہوں اور اپنے ماتحت اداروں سے بات کریں گے ۔اس کے ساتھ ہی صوبائی وزیر نے اس تشویش اور شبہ کا اظہار بھی کیا کہ باز لاپتہ افراد ملک سے باہر جا چکے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ملک کے خلاف منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جنہوں نے پہاڑوں اور بیابانوں کا رخ کیا ہے جو دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں آلہ کار بن رہے ہیں ۔
صوبائی وزیر نے اس خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے نوجوانوں کو مشورہ بھی دیا جنہوں نے ملک اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں یا دیگر منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں کہ وہ ہتھیار پھینک کر صوبہ کے عوام کے مفاد اور ملک کی ترقی اور خوشحالی میں مثبت کردار ادا کرنے کے لئے قومی دھارے میں شامل ہوجائیں ۔دہشت گردی، شدت پسندی اور شرپسندی کے خلاف صوبائی وزیر کا موقف روزِ روشن کی طرح عیاں ہے- اس معاملے میں صوبائی وزیر زیرو ٹالرنس (ZERO TOLARANCE ) پالیسی اپنایا ہے ۔ صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ دہشتگرد ملک کی ترقی و خوشحالی اور امن و امان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں – پاک فوج، پولیس ایف سی، لیویز اور دیگر سکیورٹی اداروں نے آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کی بدولت ملک کے کونے کونے میں سرایت کرنے والے دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کو عبرتناک شکست فاش دیا۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج اور پولیس سمیت تمام سیکورٹی اداروں نے لازوال قربانیاں دی ہیں جو کہ تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھے جائیں گے۔انہی قربانیوں کی بدولت ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہے ۔عوام کی تحفظ اور صوبہ میں امن و استحکام کی صورتحال کا خود جائزہ لیتے رہے ہیں ۔ایک ماہ کے دوران صوبائی وزیر داخلہ حب، خضدار، قلات ،اوتھل، بیلہ، کوئٹہ، پشین ،کچلاک و دیگر علاقوں کے پولیس اور لیویز تھانوں، جیلوں اور چیک پوسٹوں کا دورہ کرتے رہے تاکہ عوام کی تحفظ کو یقینی بنانے سمیت اہلکاروں کو درپیش مسائل بھی حل کیئے جا سکیں ۔پشین ، لورالائی سمیت صوبہ میں کہیں بھی دہشت گردی کاواقعہ رونما ہوا ہو صوبائی وزیرداخلہ سیکیو رٹی فورسز کی حو صلہ افزائی اور ڈھارس باندھنے موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ صوبائی وزیر منشیات کے خلاف بھی متعلقہ اداروں کو ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کی ھدایت دیتے رہے ہیں ۔ضیا ءاللہ لانگو ملک اور قوم کی ترقی کے لئے تعلیم کی اہمیت اور افادیت سے بخوبی آگا ہیں وہ اسکولوں اور کالجو ں میں معیار تعلیم پر کسی قسم کے سمجھوتہ کے حق میں نہیں ۔بلوچستان میں بننے والے میڈیکل کالجو ں کی نگرانی کے لئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے بنائے گئے کیمیٹی میں بھی شامل ہیں اسی سلسلے میں صوبائی وزیر اعلیٰ تعمیم ظہور احمد بلیدی ،صوبائی وزیر اسد بلوچ ،لالا رشد بلوچ وہ دیگر کے ہمراہ جنوری کے پہلے ہفتے خضدار میں زیر تعمیر شہید سکندار میڈیکل کالج کادورہ کیا اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا ۔ چونکہ بلوچستان طویل عرصہ سے خشک سالی کا شکار رہا ہے خوشک سالی کا تسلسل ہر دو یا چار سالوں بعد اپنے اثرات ظاہر کرتا ہے جس سے بلوچستان کے طول و عرض میں پہلے پہاڑی اور میدانی علاقوں اور ریگستانوں پر مشتمل اضلاع میں گہرے اور منفی اثرات چھوڑا ہے۔ موجودہ و خشک سالی کی لہر نہایت شدید ہے جس کی وجہ سے صوبائی وزیر کے مطابق 20 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ان علاقوں میں شعبہ زراعت، پھلوں کے باغات، چھوٹے اور بڑے مال مویشیوں کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بچوں اور بڑوں میں غذائی قلت کی وجہ سے بیماریاں بھی بڑھ ر ہی ہیں اور بچوں کی شرح اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ان تمام عوامل اور عناصر کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی وزیر نے 4 جنوری کو صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے آفس واقع ائرپورٹ روڈ کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے محمد طارق نے انہیں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں اور متاثرین کی بحالی کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے بریفنگ دی- اس موقع پر صوبائی وزیر نے محکمہ کے مختلف شعبوں کے معائنہ کرتے ہوئے انکے کام اور کارکردگی کا جائزہ لیا- صوبائی وزیر کی ھدایت پر خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے متاثرین کی بحالی و امداد کی کاروائی بھی تیز کر دی گئیں ۔صوبائی وزیر نے وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے( National Desaster Management Authority) حکام سے متاثرین کی بحالی کیلئے اضافی وسائل طلب کرنے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب "قحط سالی پر قومی مشاورتی ورکشاپ” میں شرکت کی اور بلوچستان میں خشک سالی کی وجہ سے درپیش مشکلات اور مسائل کا مقدمہ پر زور انداز میں پیش کیا ۔ این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات سے ملاقات کرتے ہوئے مالی معاونت سمیت متاثرین کی امداد کیلئے اشیائے خوردنی، گرم کپڑے، ٹینٹ، جانوروں کے چارہ اور بیماریوں پر قابو پانے کے لئے ادویات مانگیں ۔اپنے دورہ کے موقع پر وہ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی، وفاقی وزیر توانائی خسروبختیار، وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال، وفاقی وزیر مملکت برائے موسمیات زرتاج گل اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے دہشت گردی، خشک سالی اور متاثرین کی امداد، بلوچستان میں گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بلوچستان کے صنعت اور زراعت کو درپیش نقصانات و بلوچستان سے منسلک دیگر امور پر بات چیت کی اور ان مسائل کے حل کیلئے وفاق کی جانب سے سنجیدہ اقدامات اٹھانے پر زور دیا ۔ وفاقی وزیر دفاعی پیداوار سے ملاقات کے موقع پر ضیاءاللہ لانگو نے پولیس, لیویز اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مصروف عمل دیگر سیکورٹی اداروں کے لیے جدید جنگی آلات اور ہتھیاروں کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا۔صوبائی وزیر داخلہ مد برانہ سوچ کے مالک ہیں وہ سیاسی تناو¿ کو ہوا دینے اور مخالفین کو طاقت اور اختیار کی بنیاد پر زیر کرنے کے بجائے افہام و تفہیم اور مشاورت پر یقین رکھتے ہیں ۔24 جنوری کو صوبائی وزیر داخلہ نے حزب اختلاف اور حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی جن میں صوبائی مشیر لائیوسٹاک مٹھا خان کاکڑ، جمہوری وطن پارٹی کے گہرام بگٹی، پی ٹی آئی کے سردار خان رند، ایم ایم اے کے رہنما اصغر علی ترین اور یونس عزیز زہری کے ساتھ پی ڈی ایم اے مین آفس کا دورہ کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا ۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران زرکون نے اراکین اسمبلی کو اس موقع پر بریفنگ بھی دی ۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین اسمبلی نے صوبائی وزیرداخلہ کے اس والہانہ اقدام پر ان کی تعریف کی، اس تناظر میں رکن صوبائی اسمبلی اصغر علی ترین نے صوبائی وزیر داخلہ اور دیگر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کو پشین دورہ کی دعوت دی- صوبائی وزیر نے پشین لیویز اور پولیس ہیڈکوارٹر کے دورہ سمیت وہاں پر قبائلی عمائدین اور کھلی کچہری سے بھی خطاب کیا – الغرض صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو 30 دسمبر کو وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد سے اب تک، ایک ماہ گزرنے کے بعد، انتہائی متحرک رہے ہیں۔ایک ماہ کی قلیل مدت کے دوران صوبائی وزیر 4 مرتبہ پی ڈی ایم اے آفس، 3 دفعہ سنٹرل جیل ہدہ کوئٹہ، کوئٹہ کے مختلف تھانوں اور چیک پوسٹوں کا دورہ بھی کیا ۔ کوئٹہ شہر کا بگیر کسی پر وٹو کول کے دورہ کیامختلف شا ہراہوں او ر بازاروں میں رکھے ،عوام اور کا روباری افراد سے ملے اور شہر میں امن وامان کی صورتحال پر بات چیت کی ۔ صوبائی وزیر کے اس اقدام کو عوام میں کافی پزیرائی ملی ہے ۔ وہ متعدد بار پولیس ھیڈ کوارٹر کوئٹہ کا دورہ کر چکے ہیں، آئی جی پولیس محسن حسن بٹ اور ڈی آئی جی عبدالرزاق چیمہ سے کوئٹہ شہر اور صوبہ بھر میں سیکورٹی صورتحال اور مغوی ڈاکٹر خلیل ابراہیم کی بازیابی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر متواتر رپورٹ لیتے رہے ہیں ۔ 2 جنوری کو ادارہ سول ڈیفنس کا بھی دورہ کیا، ادارے کی کارکردگی پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا عزم بھی کیا ۔ صوبائی وزیر داخلہ اپنے ماتحت اداروں کی بہتر کارکردگی اور ترقی، امن و امان کے قیام، خشک سالی سے متاثرہ ضلوں میںمتا ثرین کی بحالی اور امداد میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے