. بچے کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے،مولانامحمدعمران عطاری - Today Pakistan
Home / Uncategorized / بچے کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے،مولانامحمدعمران عطاری

بچے کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے،مولانامحمدعمران عطاری

کوئٹہ۔۔۔دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران مولانامحمدعمران عطاری نے کہا ہے کہ اولاد والدین کی تب ہوگی جب وہ اللہ ورسول کی فرمانبردار ہوگی، اپنے بچوں کو کسی کے ہاتھ میں دے دیں گے تو نقصان ہوگا، یہ بات جان لیناچاہئے کہ بچے کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے، اولاد والدین کے ہاتھو ں اللہ تعالیٰ کی امانت ہے ،اولاد کا پاک دل جوہر نایاب ہے جو ہر نقش وصورت سے خالی ہے اس پر جو باتیں سیکھائیں گے وہ وہی سیکھے گا۔ان خیالات ا ظہار انہوں نے فرینکفرٹ یوکے میں دعوت اسلامی کے منعقدہونے والے سنتوں بھرے اجتماع سے بیان کرتے ہوئے کیا۔نگران شوریٰ نے کہا کہ کوئی بچہ زبان سیکھ کرنہیں آتا بلکہ وہ اپنے والدین کو دیکھ کر سیکھتا ہے ،والدین کی ذمہ داری ان اساتذہ سے زیادہ ہے جو تعلیمی اداروں میں بچوں کو پڑھاتے ہیں کیونکہ اساتذہ کا انتخاب بھی والدین کے انتخاب پر منحصر ہے ،جس طرح والدین اپنے بچے کی صحت وتندرستی کیلئے اچھی غذا اور اچھے ڈاکٹر کا انتخاب کرتے ہیں اسی طرح اس کی اچھی تربیت کیلئے اچھے استاد کا انتخاب بھی ضرور ی ہے مگر ہم اس معاملے کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ مولانا محمد عمران عطاری نے کہا کہ والدین سے اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا ، والدین اپنی اولاد کو نبی کریمﷺ،اہلبیت کی محبت سیکھائیں اور اسے قرآن کی تعلیم دیں،نبی کریم ﷺ کی محبت کس طرح سکھائی جائے یہ ایک مضمون ہے جس کا جاننا والدین کےلئے ضروری ہے ،اولیاءکرام صحابہ کرام اور نبی کریم ﷺ سے کیسی محبت کرتے تھے یہ اپنی اولاد کو بتانا ہوگا ،والدین خود علم دین حاصل کریں تاکہ آپ اپنے کی بچوںکی اچھی تربیت کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین اپنی اولاد کے دل میں محبت رسولﷺ پیدا کریں اور ساتھ ہی صحابہ کرام کی سیرت سے متعلق بھی آگاہ کریں،یاد رکھیں مغربی کلچر میں اولاد کے پاس بوڑھے والدین کیلئے وقت نہیں ہوتا ان کا بڑھاپا کتوں اور جانوروں کے ساتھ گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج والدین یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ہماری اولاد ہمیں وقت نہیں دیتی ہماری بات نہیں سنتی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک وقت تھا جب وہ بچے چاہتے تھے کہ والدین ان سے بات کریں اور ان کی سنیں ان پر توجہ دیں مگر ماں باپ کے پاس وقت نہیں تھا ،ان کی اولاد کہاں پلی کہاں تربیت حاصل کی اس کی فکر والدین کو نہیں تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے