. مالی بحران سے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے رکنے کاخدشہ - Today Pakistan
Home / تجزیے و تبصریے / مالی بحران سے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے رکنے کاخدشہ

مالی بحران سے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے رکنے کاخدشہ

تحریر/فرخ شہزاد‘کوئٹہ
بلوچستان ایک دہائی قبل تک شدید مالی بحران کا شکار تھا۔ صوبے کو ترقیاتی منصوبوں تو کجا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے وفاق کی جانب دیکھنا پڑتا تھا۔ بلوچستان نہ صرف 17 ارب روپے کے اوور ڈرافٹ کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا بلکہ اس مد میں ماہانہ کروڑوں روپے سود کی مد میں بھی ادا کیے جاتے تھے ۔ 2008ء کے انتخابات کے تحت قائم ہونیوالی پیپلز پارٹی کی حکومت نے بلوچستان کے عوام سے ماضی کی زیادتیوں پر معافی مانگتے ہوئے ’’آغاز بلوچستان پیکیج‘‘ کا اعلان کیا اور ساتھ ہی 17 ارب روپے کا اوور ڈرافٹ اپنے ذمے لے لیا جس کا بوجھ اترنے سے اس وقت کی صوبائی حکومت نے سکھ کا سانس لیا تھا لیکن مالی مشکلات اپنی جگہ بدستور موجود رہیں۔اسی دور حکومتمیں چاروں صوبے نئے این ایف سی ایوارڈ پر متفق ہوئے جس میں پہلی مرتبہ آبادی کے ساتھ وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں بلوچستان کے مطالبے پر کچھ فیصد وسائل بکھری ہوئی آبادی ، رقبہ اور پسماندگی کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان بنیادوں پر بھی اگرچہ بلوچستان کو کچھ زیادہ فنڈز تو نہ ملے مگر یہ ضرور ہوا کہ آخری این ایف سی ایوارڈ پر چاروں صوبوں کے متفق ہونے کے بعد بلوچستان کے وسائل این ایف سی میں پانچ سے بڑھ کر نو فیصد ضرور ہوئے۔ ماضی کے مقابلے میں پی ایس ڈی پی بھی بڑھ کر دگنا ہونے کے ساتھ مجموعی طور پر بجٹ میں بھی اضافہ ہوا اس عرصے میں وفاقی حکومت نے گیس رائلٹی کی مد میں بلوچستان کے 120 ارب روپے کے بقایاجات تسلیم کیے۔ اگرچہ یہ رقم آج تک متنازع ہے اور سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ یہ رقم کئی گنا زیادہ ہے تاہم وفاق نے مذکورہ 120 ارب روپے بھی بارہ سال میں ادا کرنے کا اعلان کیا ۔ یوں بلوچستان کو وفاق سے سالانہ دس ارب روپے اس مد میں ملنا شروع ہوئے۔ جس کے بعد صوبے کی تاریخ میں پی ایس ڈی پی پہلی بار پچاس ارب روپے سے تجاوز کرگیا جو اب 88 ارب روپے کے قریب ہے۔ 2013 کے انتخابات کے بعد بننے والی صوبائی حکومت کو بھی مالی حوالے سے کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ صوبے کے مالی معاملات آسان طریقے سے چلتے رہے ۔ تاہم سابق اسمبلیاں تحلیل ہونے سے چند روز قبل352 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا گیا تو اُس میں88 ارب روپے کا پی ایس ڈی پی بھی شامل تھا جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا تھا کہ غیر ترقیاتی بجٹ میں اضافے سے صوبے پر بوجھ پڑے گا اور اُن کا یہ خدشہ جلد ہی درست ثابت ہوا ۔چند روز قبل صوبائی حکومت نے تسلیم کیا کہ موجودہ پی ایس ڈی پی جو اٹھاسی ارب روپے ہے مگر صوبائی حکومت کے پاس اس ضمن میں صرف اٹھاسی کروڑ روپے ہیں۔جس کی تصدیق کرتے ہوئے وزیر اعلی میر جام کمال خان عالمیانی نے کہا کہ بلوچستان ایک شدید مالی بحران سے دوچار ہوچکا ہے ۔جس کے بعد مبصرین میں یہ بات زیر بحث ہے کہ بلوچستان میں مالی مسائل کا اگرچہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا تاہم اچانک اتنا بڑا بحران کیسے پیدا ہوا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی ریکوزیشن پر بلائے جانے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن ارکان نے آئندہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا نہ صرف مطالبہ کیا بلکہ آئندہ این ایف سی ایوارڈ میں صرف آبادی کو بنیاد بنانے کی بجائے بلوچستان کے رقبے ، غربت و پسماندگی ، ساحل ، قدرتی وسائل ، ریونیو جنریشن ، ایس ڈی جیز کے اہداف سمیت دیگر امور کو بھی شامل کرنے پر اتفاق کا اظہار کیا اور وفاقی پی ایس ڈی پی سے نکالے گئے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبے دوبارہ فیڈرل پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی۔صوبائی وزیر اطلاعات و ہائیر ایجوکیشن میر ظہور بلیدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں بلوچستان کا کیس بھرپور انداز میں لڑیں گے ، وسائل کی تقسیم کار کے طریقہ کو تبدیل کراکے بلوچستان کے لئے زیادہ وسائل حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، شدید مالی بحران کے باوجود ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت کسی بھی مالیاتی ادارے سے قرضہ نہیں لیں گے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ،اس لئے ہم این ایف سی کیلئے بھی اپنی تیاری کررہے ہیں صوبے کا کیس این ایف سی ایوارڈ میں بھرپور انداز میں لڑیں گے او راپنا حق حاصل کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے اور عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے اور ہائی کورٹ کے حکم پر پی ایس ڈی پی کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں ۔اجتماعی نوعیت کی اسکیموں کو جاری اور انفرادی منصوبوں کو نکال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور اسکی اتحادیوں کی حکومت کو برسراقتدار آئے ہوئے 2 ماہ کا عرصہ گزرا ہے ، اس مختصر عرصہ میں حکومت نے صوبے کے مسائل کے حل کیلئے کابینہ کے کئی اجلاس منعقد کر کے ترجیحات طے کرلی ہیں جن کی روشنی میں حکومت کی کارکردگی اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کو مزید فعال کررہے ہیں ، مالی بحران پر قابو پانے کے لئے اپنے ذرائع بھی بروئے کار لارہے ہیں ، 7 بلین روپے وصول کئے ہیں ۔ ہماری کوشش ہے کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھاکر صوبے کی آمدن میں اضافہ کیا جائے اور نان ڈویلپمنٹ بجٹ کو کم کرکے دوسرے شعبوں پر خرچ کریں ۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل صوبائی حکومت وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کوئٹہ کے دوران بلوچستان کے مالی مشکلات سے نمٹنے کے لئے ون ٹائم گرانٹ کا اعلان کرانے میں کامیاب نہ ہوسکی ۔ جس کے بعد بلوچستان حکومت کے لئے مالی حوالے سے مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے اور آئندہ صوبائی بجٹ تک صوبے میں ترقیاتی عمل رک جانے کا خدشہ ہے جو پہلے ہی سے پسماندگی کے شکار بلوچستان کے لئے نیک شگون نہ ہوگا ۔ موجودہ مالی بحران سے نکلنے کے لئے بلوچستان حکومت کو نئے این ایف سی ایوارڈ کے جلد اجرا کے لئے کوششوں کے ساتھ نئے ایوارڈ میں آبادی کے ساتھ بلوچستان کے رقبے ، غربت و پسماندگی ، ساحل ، قدرتی وسائل ، ریونیو جنریشن ، ایس ڈی جیز کے اہداف سمیت دیگر امورکو شامل کرانے کے لئے انتھک محنت کرنا ہوگی ، بصورت دیگر نئے این ایف سی کے تحت بھی کچھ عرصے کے لئے تو مالی صورتحال بہتر ہوجائے گی لیکن یہ کوئی مستقل حل نہ ہوگا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے