. سانحہ ساہیوال....ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس - Today Pakistan
Home / اہم خبریں / سانحہ ساہیوال….ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس

سانحہ ساہیوال….ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس

19جنوری کو پنجاب کے ضلع ساہیوال میں اندو ہناک واقعہ پیش آیا۔ سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے قادر آباد کے علاقے میں گاڑی پر فائرنگ کرکے ایک ہی خاندان کے تین افراد سمیت 4 افراد کو قتل کردیا۔ گاڑی میں ایک معصوم بچہ زخمی ہوا۔ واقعہ کے بعد پولیس اہلکار نعشیں اور گاڑی میں پڑا ہوا سامان ساتھ لے گئے جبکہ بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ گئے۔ اس واقعہ کو یقینی طور پر ان سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے جعلی پولیس مقابلے کو اپنی ترقی اور انعامات کے حصول کےلئے استعمال کرنا تھا کیونکہ ان کا موقف تھا کہ یہ کارروائی دہشت گردی کیخلاف ہونیوالی کاروائیوں کا حصہ تھی اور ہم 2 دہشت گردوں کے تعاقب میں تھے اور مزید یہ کہ کارروائی خفیہ ادارے کی اطلاع پر کی گئی اور موقع سے ہینڈ گرنیڈ ‘خودکش جیکٹس اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔لیکن جائے وقوع پر جمع ہونے والے بہادر شہریوں نے اپنے موبائل کیمروں میں جو حقائق ویڈیو کی صورت میں محفوظ کئے وہ سی ٹی ڈی کے موقف کے برعکس نظر آرہے ہیں اہم بات یہ ہے کہ اگر گاڑی میں سوار افراد دہشت گردی تھے تو ان سے بات چیت کیوں کی گئی جس کا ثبوت ویڈیوز میں موجود ہے دوسری بات یہ کہ سی ٹی ڈی اہلکار فائرنگ کرکے فرار کیوں ہوئے اور کچھ دیر بعد واپس آکر جائے وقوعہ سے شواہد غائب کئے گئے۔ دوسری جانب سی ٹی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ میں محفوظ رہنے والے بچوں کا بیان بھی قابل غور ہے کہ ہمارے ابو نے پولیس والوں کو کہا کہ پیسے لے لو لے ہم پر فائرنگ نہ کرو۔ جب گاڑی میں سوار افراد کو سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انتہائی سفاکانہ انداز میں قتل کیا اس وقت کچھ فاصلے پر کھڑی بس سے ایک شخص نے تمام مناظر کیمرے میں محفوظ کرلئے کہ کس طرح مملکت خداداد پاکستان میں سی ٹی ڈی اہلکار مذموم مقاصد کیلئے بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے۔ اس افسوسناک واقعہ کو پولیس گردی کہا جائے تو قطعاً غلط نہیں ہوگا اسی بدنام زمانہ رویہ کی وجہ سے ہماری پولیس پہلے بہت شہرت رکھتی ہے۔ دیگر ممالک میں پولیس کو دیکھتے ہی تحفظ کا احساس ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں پولیس کی چیک پوسٹ دیکھ کر لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوجاتے ہیں اور جان بخشی کی دعا کرتے ہیں۔پولیس کی جانب سے عام شہریوں کو قتل کئے جانے کے درجنوں واقعات آن دی ریکارڈ آج بھی موجود ہیں اور یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ایسے بدمعاش قسم کے اہلکاروں کو سزا بھی نہیں ہوپاتی۔ اسی وجہ سے ایسے سماج دشمن عناصر جو وردی میں ملبوس ہوتے ہیں کے حوصلے مزید بلند ہوجاتے ہیں‘ایسے عناصر کو چونکہ کسی نہ کسی کا آشیرباد اور سرپرستی حاصل ہوتی ہے اس لئے انہیں کہیں بھی ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے ‘کہیں بھی کسی کو بھی سزا دینے کااختیار حاصل ہوتا ہے۔ کراچی میں جعلی مقابلوں کےلئے مشہور راﺅ انوار کابھانڈا پھوٹا ‘نقیب محسود اور دیگر کو بھی دہشت گرد قرار دیا گیا لےکن حقائق کچھ اور ہی تھے ‘ نقیب محسود قتل کیس آج بھی چل رہا ہے اور اس کے معصوم بچے اور بوڑھے والدینآج تک انصاف کے منتظر ہیں۔ لاہور کے عابد باکسر بھی منظر عام پر آئے ‘راولپنڈی میں بھی 2 بھائیوں کو پولیس نے فائرنگ کرکے قتل کیا ‘ایسے اور بھی دلسوز واقعات کے مقدمات آج تک سرکاری فائلوں میں ہی دب کر رہ گئے ہیں جوکہ نظام انصاف پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پولیس کی جانب سے عوام پر اپنا رعب قائم رکھنے کےلئے پرتشدد واقعات تو روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔سانحہ ساہیوال کے بعد شدید رد عمل بھی سامنے آرہا ہے اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ عام شہریوں کو قتل کرنے والے اہلکاروں کو بھی سر عام سزا دی جائے جیسا انہوں نے کیا لیکن ایسا کرنے کی ہمارے ملک کے قانون میں کوئی گنجائش موجود ہیں ہے مگر ایسی درندگی کرنےوالوں کو سرعام سزا دینے کےلئے قانون میں گنجائش بنائی جانی چاہئے تاکہ معاشرے کے ناسوروں کاخاتمہ ہوسکے۔ سی ٹی ڈی کو حد سے زیادہ اختیارات دینے کا سہرا سابق حکمرانوں کو جاتا ہے لیکن آج انہی اختیارات کے ناجائز استعمال نے ایک خاندان کو تباہ کردیا فائرنگ میں محفوظ رہنے والے نونہالوں کو ذہنی طور پر مفلوج کردیا گیا شاید انہیں اس صدمے سے نکلنے میں برسوں لگ جائیں لیکن وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے والدین کا سفاکانہ قتل ساری عمر بھلا نہیں پائیں گے۔سی ٹی ڈی کی جانب سے سانحہ ساہیوال بارے مسلسل موقف تبدیل کرنا شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے کیونکہ عینی شاہدین اور ویڈیوز میں حقائق ان کےخلاف ہیں۔وزیراعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ پاکستان کا نظام دنیا کی اول اسلامی فلاحی ریاست مدینہ کی طرح بنانا چاہتے ہیں۔ ریاست مدینہ کو اس لئے اسلامی فلاحی ریاست کا درجہ ملا کیونکہ وہاں بلا تفریق رنگ و نسل عوام کو انصاف فراہم کیا جاتا تھا کسی کو کسی دوسرے کی جان و مال پر حملہ کرنےکی جرات نہیں تھی ‘قانون کے تقاضے پورے کئے جاتے تھے حکمران بھی عوام کو جوابدہ تھے۔ اگر پاکستان کو حقیقتاً اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے تو سب سے پہلے انصاف کے تقاضے پورے کرنا ہونگے۔عوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کے بنیادی اور اولین فرائض میں شامل ہے اور انصاف کا تقاضا ہے کہ نہ صرف سانحہ ساہیوال بلکہ دیگر واقعات جن میں پولیس اہلکار ملوث ہیں کو نہ صرف سخت سزائیں دی جائیں بلکہ انہیں نشان عبرت بھی بنایا جائے ‘بے جا اختیارات دینے سے گریز کیا جائے ‘پولیس کے محکمہ میں اصلاحات کی جائیں اور انہیں سڑکوں پر سرعام از خودعدالتیں لگاکر انصاف کرنے کے حق سے محروم کیا جائے۔ ساہیوال واقعہ کے بعد پورے ملک میں بے چینی کی فضاءہے ہر شخص غم و غصہ میں ہے کیونکہ اس طرح کے واقعات معمول بنتے جارہے ہیں اس لئے ان کی نظریں حکومتی اقدامات پر ہیں ریاست اپنے فرائض پورے کرے۔ اور اگر گاڑی میں کسی دہشت گرد کی موجودگی کے ثبوت ہیںتو وہ بھی عوام کے سامنے پیش کئے جائیں۔ ساہیوال واقعہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین سمیت پورا ملک اب انصاف چاہتا ہے وہ انصاف جو ریاست مدینہ میں ہوتا تھا کیونکہ تاریخ گواہ ہے ریاستیں جب بھی تباہ ہوئیں علاقے جب بھی اجڑے ان کی بنیادی وجہ انصاف کا بروقت نہ ہوناتھا سانحہ ساہیوال ریاست مدینہ کے دعویدار حکمرانوں کیلئے ٹیسٹ کیس بھی ہے امید ہے کہ تفتیش کے بعد انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے