. معدنیات کے معاہدوں میں بلوچستان کو اعتماد میں لیں گے ‘وفاق کی یقین دہانی - Today Pakistan
Home / اہم خبریں / معدنیات کے معاہدوں میں بلوچستان کو اعتماد میں لیں گے ‘وفاق کی یقین دہانی

معدنیات کے معاہدوں میں بلوچستان کو اعتماد میں لیں گے ‘وفاق کی یقین دہانی

کوئٹہ (خ ن )وفاقی حکومت نے معدنی وسائل کی تلاش وترقی کے منصوبوں اور اس حوالے سے مختلف کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں میں بلوچستان کے حق اور اختیارات تسلیم کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ معدنیات کی تلاش وترقی کے معاہدوں میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جائے گا اور صوبے کے معدنی وسائل سے مختلف مدات میں حاصل ہونے والی آمدنی سے بلوچستان کو اس کا پورا حصہ دیا جائے گا جبکہ وفاقی وصوبائی حکومت نے صوبے کی معدنیات کی تلاش وترقی کے منصوبوں اور معاہدات سے متعلق تمام امور کو باہمی اتفاق رائے سے طے کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ وفاقی وصوبائی حکام پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے،

جوائنٹ ورکنگ گروپ سوئی مائننگ لیز ،لائسنسنگ زونز اور 18ویں ترمیم، پٹرولیم پالیسی اور آئین کے آرٹیکل3) 172( اور 158 کے تحت بلوچستان کے حقوق کے تحفظ سمیت دیگر متعلقہ امور طے کرے گی اور اس ضمن میں بلوچستان کے تحفظات کو دور کیا جائے گا، ورکنگ گروپ ایک ماہ کے اندر تمام امور طے کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گا، اس بات کا فیصلہ جمعہ کے روز وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ، وفاقی وزیر پٹرولیم چوہدری غلام سرور خان، ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر خان موسیٰ خیل، صوبائی وزراءمیر نصیب اللہ مری، میر ظہور احمد بلیدی، میر سلیم خان کھوسہ، میر عمر خان جمالی، میر ضیاءاللہ لانگو، زمرک خان اچکزئی، نورمحمد دمڑ، رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی، متعلقہ صوبائی سیکریٹریز اور وزارت پٹرولیم کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں سوئی مائننگ لیز کی توسیع، پٹرولیم پالیسی اور آئین کی متعلقہ شقوں کے تناظر میں صوبائی حکومت کے اختیارات، معدنیات کے حامل علاقوں میں مائننگ اور ایکسپلوریشن کے لائسنسوں کے اجراءاور معاہدات کے طریقہ کار اور ان مدات میں حاصل ہونے والی آمدنی میں بلوچستان کے حصے ، ایل پی جی پلانٹس کی تنصیب کے منصوبے ، سیندک منصوبے کے لئے مائننگ ایریا کی توسیع، بلاک 28 میں معدنیات کی تلاش وترقی کے منصوبے، صوبے کے مختلف علاقوں میں گیس پریشر اور گھریلو صارفین کے لئے گیس کے نرخ میں کمی، پی ایم ڈی سی سے متعلق امور، اوجی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور گیس کی تقسیم کار کمپنیوں میں بلوچستا ن کی نمائندگی اور ان اداروں میں بلوچستان کے لوگوں کو روزگار کی فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو ایک بلاک میں مائننگ کے حقوق دیئے ہیں تاہم ہماری خواہش ہے کہ مزید دو بلاک کے حقوق صوبائی حکومت کو دیئے جائیں کیونکہ جن علاقوں میں ایکسپلوریشن کا آغاز ہوتا ہے وہاں پر روزگار کے مواقع اور معاشی سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف وفاق اور صوبے میں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت باہمی تعاون کی ایک اچھی مثال قائم کریں گی، ہمیں کشادہ دلی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں فیصلے کئے جاتے تھے لیکن اب جو بھی فیصلے ہوں ان پر عملدرآمد ہونا چاہئے، وفاق تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلے تو وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلاف کا تاثر پیدا نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر صوبے کے مختلف اضلاع میں ایل پی جی پلانٹس کی تنصیب کے منصوبے کی جلد تکمیل پر زور دیا، وفاقی وزیر پٹرولیم نے وزیراعلیٰ کے موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اوجی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کو معدنیات کی تلاش وترقی کے منصوبوں اور معاہدات میں صوبائی حکومت کے ساتھ شراکت داری کا پابند کیا جائے گا اور بلوچستان کے حقوق ومفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ دریںاثناءوزیراعلی بلوچستان میر جام کمال نے کہا ہے کہ گذشتہ حکومت نے پانچ سال غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان میں سی پیک کے تحت ایک کلومیٹر سڑک بھی تعمیر نہیں کی وفاقی حکومت نے بلوچستان کے نظر انداز اور زیر التواءمنصوبوں پر پیش رفت کی یقین دہانی کروائی ہے یہ بات انہوں نے جمعہ کو وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں وفاقی وزیر پیڑولیم غلام سرور خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر صوبائی وزراءو مشیران میر ضیاءلانگو ، محمد خان لہڑی ، میر سلیم کھوسہ ، عمر جمالی ، نصیب اللہ مری ، ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسی خیل ، اراکین اسمبلی عبدالرشید بلوچ، مبین خلجی و دیگر بھی موجود تھے وزیر اعلی میر جام کمال نے کہا کہ سی پیک اب الگ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ہمارے تحفظات موجودہ نہیں گذشتہ حکومت سے تھے جس نے سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں بلوچستان کو یکسر نظر انداز کیا لیکن وزیر اعظم عمران خان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وفاق بلوچستان کی جانب سے سی پیک ہےتمام نظر انداز منصوبوں پر پیش رفت کریگا اور ان پر کام کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ وزیر پٹرولیم سے بلوچستان کے اہم معاملات پر تبادلہ خیال ہوا ہے اور صوبے کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کمیٹیاں اور ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سرد اضلاع جن میں زیارت ، پشین ، کوئٹہ ، سوراب ، قلات ، مستونگ ، سمیت دیگر علاقے شامل میں گیس کی فراہمی ، پریشر بڑھانے جیسے مسائل وفاق کو پیش کئے گئے ہیں جبکہ پی پی ایل ، بولان مائننگ اور دیگر منصوبوں پر کام تیز کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور بی اے پی مخلوط حکومتوں میں اتحادی ہیں ہم محسوس کرتے ہیں کہ مرکز اور صوبہ مل کر ہی مسائل حل کر سکتے ہیں بے روزگاری ، غربت انفراسٹرکچر مسائل کے خاتمے کے لئے ٹیم کی طرح اگے بڑھیں گے انہوں نے کہا وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے اراکین بھی بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں جو خوش آئند ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے