لاگت بڑھنے کے پیش نظر ڈبل روٹی کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ

ڈبل روٹی بنانے والوں کی جانب سے ہفتہ سے قیمتوں میں اوسطاً 19 فیصد اضافے کے فیصلے کے بعد ناشتے کی اشیا کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔

گزشتہ ماہ اگست میں مکھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔

ڈبل روٹی بنانے والوں نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ سپر فائن فلور (مائدہ)، یوٹیلیٹی بلز اور ڈسٹری بیوشن لاگت سمیت خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیا۔

گزشتہ جون کے دوسرے ہفتے میں صارفین نے قیمتوں میں 16 سے 17 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا تھا۔

کراچی بریڈ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ہارون اقبال شیخ نے بدھ کو ڈان کو بتایا کہ جون 2022 کی شرح سے اب تک میدہ کی قیمت 42 فیصد اضافے کے بعد 5700 روپے فی 50 کلوگرام تھیلے تک پہنچ گئی ہے۔

روٹی اور دیگر بیکری آئٹمز کی کل پیداوار میں میدے کا استعمال 65 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے بعد بڑی، درمیانی، چھوٹی اور چھوٹی سادہ ڈبل روٹی بالترتیب 200 روپے، 150 روپے، 110 روپے اور 70 روپے میں دستیاب ہوں گی جبکہ دودھ والی روٹی درمیانی، چھوٹی اور چھوٹی ڈبل روٹی بالترتیب 151، 111 اور 71 روپے میں فروخت ہوں گی۔

برن بریڈ اور بڑے فروٹ بن کی قیمتیں 150 اور 50 روپے مقرر کی گئی ہے۔

منی بن، برگر رول، کٹ برگر اور اسپیشل برگر پر بالترتیب 20 روپے، 35 روپے، 100 روپے اور 110 روپے کے نئے ٹیگز ہوں گے۔

ہارون اقبال شیخ نے خبردار کیا کہ اگر سپر فائن فلور کی قیمت 7ہزار روپے فی 50 کلوگرام سے تجاوز کر جاتی ہے، تو ہم اس کے اثرات کو مزید صارفین تک منتقل کرنے پر مجبور ہوں گے۔

فروخت پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے 19 اراکین کی پیداوار میں جون 2022 سے اب تک کم از کم 30 فیصد کمی آئی ہے کیونکہ زیادہ قیمتوں کی وجہ سے مانگ میں کمی آئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف رسک (پاپے) بنانے والی تقریباً تین سے چار فیکٹریاں بھی گزشتہ تین ماہ کے دوران بند ہو چکی ہیں۔

دریں اثنا، ایک معروف ملٹی نیشنل بٹر میکر نے بھی یکم اگست 2022 کو اپنے نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

خوردہ فروشوں کو جاری کردہ نرخوں کے مطابق 50 گرام، 90 گرام، 180 گرام، 235 گرام اور 475 گرام کے بلیو بینڈ مکھن کے پیکٹ اب بالترتیب 80 روپے، 140 روپے، 270 روپے، 400 روپے اور 750 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں جہاں پہلے ان کی قیمت 60 روپے، 120 روپے، 240 روپے اور 600 روپے تھی، ریٹ لسٹ میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں