خطے میں امن کی خاطر بھارت کیساتھ بامقصد بات چیت کیلئے تیار ہیں، شہباز شریف

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے کے امن اور عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے بھارت کے ساتھ بامقصد اور بامعنی بات چیت کیلئے تیار ہے۔

جمعرات کو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ایشیا میں روابط کے فروغ اوراعتماد سازی کے اقدامات کے حوالے سے منعقدہ ’’سیکا‘‘ کے چھٹے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہم سرحد کے دونوں طرف مزید غربت اور بے روزگاری برداشت نہیں کرسکتے اور ہم اپنے قلیل وسائل کو مزید ٹینشن پیدا کرنے پر ضائع نہیں کرسکتے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا اب یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نتیجہ خیز مذاکرات کےلئے ضروری اقدامات اٹھائے، بہت ہوگیا اب ہمیں اپنے بچوں کو تعلیم، صحت اور دوائیں فراہم کرنی ہیں، اگر ہم نے ہنگامی بینادوں پر یہ نہیں کیا تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریگی۔

شہباز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے کشمیریوں کی اپنے حقوق کے لیے آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا، دنیا بھارت کے جمہوری چہرے کے پیچھے دیکھے، بھارت اپنی اقلیتوں، ہمسایوں، خطے کے امن اور خود اپنے لئے خطرہ بن چکا ہے، انہوں نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لیں۔

شہبازشریف نے کہا کہ سیکا کے رکن ممالک پاکستان میں تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھائیں، خطے کے ممالک کوامن اور ترقی کےلئے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے وسائل مختص کرنا ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور ایک تہائی پاکستان پانی میں ڈوبا ہوا ہے، حالیہ سیلاب کے باعث پاکستانی معیشت کو30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ پاکستان تنہا اپنے وسائل سے متاثرین کی بحالی اور آبادی کاری نہیں کرسکتا، سیلاب میں 1600 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ہزارو ں کلومیٹر سڑکیں اور پل پانی میں بہہ گئے اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان اس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں شامل ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب زدگان کی بحالی کےلئے پاکستان تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے، دوست ممالک سے فراخدلانہ امداد پر ان کےشکر گزار ہے لیکن 3 کروڑ سےزیادہ سیلاب متاثرین کی بحالی بہت بڑا چیلنج ہے۔

وزیراعظم نے سلاب متاثرین کی بحالی کیلئے دوست ممالک سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس صورتحال سے نکلنے کے بعد مزید مضبوط ہوکر ابھرنے کےلئے پرعزم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں