سندھ: ملالہ یوسف زئی کا دروہ جوہی، سیلاب متاثرہ خواتین اور بچوں سے ملاقات

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے دادو کے ضلع جوہی کے علاقے کا دورہ کیا اور تباہ کن سیلاب سے بے گھر ہونے والے متاثرین سے ملاقات کی۔

حالیہ سیلاب کی وجہ سے ضلع جوہی شدید متاثر ہوا لیکن شہریوں نے شہر کو سیلابی پانی سے بچانے کے لیے شہر کے اطراف بند باندھ دیا تھا۔

ان کا یہ اعلیٰ سطح کا دورہ غیر معمولی سیکیورٹی صورتحال کے درمیان ہوا، ملالہ یوسف زئی کا ہیلی کاپٹر آئل فیلڈ میں اترا، جس کے بعد وہ براستہ روڈ جوہی کے سیلاب زدہ علاقے چھنڈن پہنچیں۔

ان کے ساتھ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ اور معرف گلوگار اور سماجی کارکن شہزاد رائے بھی موجود تھے

ملالہ یوسف زئی نے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن (آر ڈی ایف) کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی، یہ تنظیمیں سیلاب کی امدادی کارروائیوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

آر ڈی ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اشفاق سومرو نے ملالہ یوسف زئی کو سیلاب متاثرین کے ریلیف آپریشنز کے حوالے سے بریفنگ دی، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے انہیں امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا جو گزشتہ 45 دن سے جاری ہے۔

اشفاق سومرو نے مزید کہا کہ ملالہ یوسف زئی نے محفوظ مقامات پر موجود خواتین اور بچوں سے ملاقات کی۔

اشفاق سومرو نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی علاقے میں تقریباً دو گھنٹے موجود رہیں اور انہوں نے متاثرہ خواتین اور بچوں سے ان کے مسائل دریافت کیے، ان کا کہنا تھا کہ اس اعلیٰ سطح کے دورے میں سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔

آئی آر سی کے سینئر ممبر آصف حیات نے بھی ملالہ یوسف زئی سے بات کی اور انہیں سیلاب کے بعد لوگوں کی امداد میں آئی آر سی، سول سوسائٹی اور حکومت کی مشترکہ کوششوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ آئی آر سی اسی طرح سیلاب سے متاثرہ دیگر اضلاع میرپور خاص، بدین اور سانگھڑ اضلاع میں بھی امدادی کارروائیں کر رہی ہے۔

دوسری جانب وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے ملالہ یوسف زئی کو صوبائی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم نے ملالہ یوسف زئی کو اسکولوں اور بچوں کی صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ 12 ہزار اسکولوں میں 20 لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے جبکہ اب بھی کئی علاقے زیر آب ہیں۔

عبدالرشید چنا کے مطابق ملالہ یوسف زئی نے تعلیمی اداروں اور بچوں کی تعلیم متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا، خواتین نے انہیں اپنے مسائل بتائے، انہوں مین نارا ویلی ڈرین (ایم این وی ڈی) کا بھی دورہ کیا۔

دادو کے ڈپٹی کمشنر مرتضیٰ علی شاہ نے ملالہ یوسف زئی کو ایم این وی ڈی اور سیلاب کے حوالے سے بریفنگ دی، انہوں نے بند پر رہنے والے خاندانوں اور بچوں سے ملاقات کی۔

سکھر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عرفان سامو نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے ملالہ یوسف زئی اور ان کے والد ضیاالدین یوسف زئی کو شال اور اجرک پیش کی۔

خیال رہے کہ 11 اکتوبر کو نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی اپنے والدین کے ہمراہ نجی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچی تھیں۔

2012 میں حملے کے بعد ملالہ یوسف زئی کا دوسرا دورہ پاکستان

سوات میں 2012 میں طالبان کے حملے میں بچ جانے والی ملالہ یوسف زئی کا یہ دوسرہ دورہ پاکستان ہے، وہ حملے کے دس سال مکمل ہونے کے 2 دن بعد کراچی پہنچی تھیں۔

لڑکیوں کو حق کے حوالے سے جو مسائل درپیش ہیں اس کو تسلیم کرنے کے لیے ہر سال 11 اکتوبر کو بچیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دوران انہوں نے پاکستان کو دورہ کیا ہے۔

سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسف زئی اکتوبر 2022 سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔

ملالہ یوسف زئی کو ابتدائی طور پر پاکستان میں ہی طبی امداد دی گئی تھی تاہم بعد میں انھیں برطانیہ کے ہسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا، ملالہ یوسف زئی کو 2012 میں سوات میں اسکول سے واپسی پر حملہ کرکے زخمی کردیا گیا تھا، اُس وقت ان کی عمر صرف 15 برس تھی، انھیں خواتین کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا تھا۔

2014 میں ملالہ کو صرف 17 سال کی عمر میں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔

ملالہ یوسف زئی مسلسل تین سال دنیا کی بااثر ترین شخصیات کی فہرست میں بھی شامل رہیں۔

عالمی سطح پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے خدمات پر ملالہ کو گزشتہ سال کینیڈا کی اعزازی شہریت بھی دی گئی۔

گزشتہ سال اپریل میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے انہیں اپنا سفیر برائے امن مقرر کیا۔

اس کے علاوہ بھی وہ عالمی سطح پر متعدد ایوارڈز و اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔

ملالہ یوسف زئی کا پہلا دورہ پاکستان

پاکستان میں خواتین کی تعلیم اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کرنے والی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے ساڑھے 5 سال بعد اپنے آبائی علاقے مینگورہ کا دورہ کیا تھا جہاں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔

29 مارچ کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ پاکستان واپس آنا ان کا خواب تھا جس کے بارے میں وہ پچھلے پانچ سالوں سے سوچ رہی تھیں۔

پاکستان میں اپنے دورے کے دوران 30 مارچ کو نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں ملالہ یوسف زئی نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد وطن واپس آجائیں گی۔

ملالہ یوسف زئی نے کہا تھا کہ ’2012 اور آج کے پاکستان میں بہت فرق ہے، ملک میں چیزیں مثبت ہو رہی ہیں، لوگ متحد ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بھی واپس آرہی ہے، یہ سب چیزیں بہت مثبت ہیں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں