بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی برسی آج منائی جا رہی ہے

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی چوہتر ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ قیام پاکستان کے ایک سال بعد انیس سو اڑتالیس کو آج ہی کے دن قوم عظیم قائد سے محروم ہوگئی تھی۔

مملکت ِخداداد پاکستان کے بانی اورہردل عزیزرہنماء قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی کوششوں سے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔ قائد اعظم قیامِ پاکستان کے بعد 11 ستمبر 1948 کو اپنی وفات تک ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔

آج کا دن ایک ایسے عظیم قائد کی یاد دلاتا ہے کہ جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نصب العین دیا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے 74 ویں یوم وفات کے موقع پر مختلف تقریبات میں بانی پاکستان کو بھر پور خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔ بانی پاکستانی کی برسی کے موقع پر گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے مزار قائد پر حاضری دی اور چادر چڑھائی۔

برصغیر کے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کے حصول کی جدوجہد میں محمدعلی جناحؒ کے قائدانہ کردار کو اجاگر کرنے کیلئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر خصوصی پروگراموں اور قومی و علاقائی اخبارات میں خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی پیدائش 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں ہوئی۔ قائد اعظم شعبہ کے اعتبار سے نامور وکیل اور سیاستدان تھے، انہوں نے 1913 میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور مسلمانوں کےلئے ایک الگ وطن کے حصول کی جدوجہد شروع کردی۔

وہ قیام پاکستان کے ایک سال بعد 11 ستمبر 1948ءمیں انتقال کر گئے تھے، یہ دن ایک ایسے عظیم قائد کی یاد دلاتا ہے کہ جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نصب العین دیا،بابائے قوم کے یوم وفات کے سلسلے میں مختلف تنظیموں کی جانب سے ملک بھر میں سیمینارز، مذاکروں اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

قائد اعظم کی وفات کے 74سال بعد بھی ا ن کی وفات کے موقع پر ہزاروں افراد کی ان کی لحد پر حاضری اورشہرشہرمنعقد ہونے والی تقریبات اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم ان سے آج بھی والہانہ عقیدت رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں