پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سیلاب ہے،صدرمملکت عارف علوی

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ سیلاب سے 1500 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سیلاب ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان شدید متاثر ہوا، این ڈی ایم اےاور مسلح افواج نے بھرپور کام کرکے لوگوں کو ریسکیو کیا۔

صدرمملکت کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے حوالے سے افواج پاکستان کاکردارلائق تحسین ہے، این ڈی ایم اے اور مسلح افواج نے بھرپور کام کرکے لوگوں کو ریسکیو کیا۔

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ گلوبل وارمنگ میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، سیلاب سے زراعت کا بہت نقصان ہوا، زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے، حکومت پاکستان کو فصلوں کوانشورنس دینے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان شدید متاثر ہوا، این ڈی ایم اےاور مسلح افواج نے بھرپور کام کرکے لوگوں کو ریسکیو کیا۔

صدرمملکت کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے حوالے سے افواج پاکستان کا کردارلائق تحسین ہے، این ڈی ایم اے اور مسلح افواج نے بھرپور کام کرکے لوگوں کو ریسکیو کیا۔

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان شدید متاثر ہوا، گلوبل وارمنگ میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، سیلاب سے زراعت کا بہت نقصان ہوا، زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے، حکومت پاکستان کو فصلوں کوانشورنس دینے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم نے دہشتگردی کا ڈٹ کرمقابلہ کیا، دنیا کی جنگیں اب سائبرورلڈ میں ہوں گی،دیکھنا ہے ہماری کیاتیاری ہے، ملکی آبادی کابڑاحصہ نوجوان طبقےپرمشتمل ہے، ہمیں اپنے بچوں کو آنے والی دنیا کیلئے تیار کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سائبرپاور کے حوالے سے پاکستان کی پالیسیز کمزور ہیں۔ سائبر پاور میں چھوٹے ممالک بھی پاکستان سے آگے ہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ چوتھا پارلیمانی سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کرتاہوں، آزادی کے75سال مکمل ہونے پر بھی قوم کومبارکبادپیش کرتاہوں۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ کا آخری مشترکا اجلاس 9 جون کو ہوا تھا جس میں حکومت نے متنازع انتخابی اصلاحات اور احتسابی قوانین کامیابی سے منظور کروائے تھے جنہیں اس سے قبل صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے باوجود منظوری دینے سے انکار کر دیا تھا۔

25 جولائی 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی موجودہ قومی اسمبلی اپنی 4 سالہ مدت پوری کر کے اپنے آخری پارلیمانی سال میں داخل ہو چکی ہے اور صدر کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب لازمی ہے جو 14 اگست کو قومی اسمبلی کا آخری پارلیمانی سال شروع ہونے کے ساتھ ہی لازم ہو چکا ہے اور تعطل کا شکار رہا۔

پی ٹی آئی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر عارف علوی ستمبر 2018 سے اب تک بطور صدر 4 بار پارلیمنٹ سے خطاب کر چکے ہیں۔

گزشتہ سال 13 ستمبر کو ڈاکٹر عارف علوی نے اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کے شدید احتجاج کے دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکا اجلاس سے خطاب کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں