پاکستان کا تباہ کن سیلاب، سات کروڑ افراد متاثر

ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے لے آیا۔

تباہ کن سیلاب سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ 25 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، ملک بھر میں مجموعی طور پر 7 کروڑ افراد سیلاب سے متاثراور 4 کروڑ بے گھر ہوئے۔

مختلف ایجنسیز اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں سے نقصانات کے اعداد و شمار جمع کیے ہیں۔

اندازوں کے مطابق سیلاب سے 20 ارب ڈالر کے زرعی نظام کو نقصان پہنچا جبکہ ملک کا 65 فیصد خوراک کا نظام متاثر ہوا ہے۔

کپاس اور چاول کی 70 فیصد فصل تباہ ہوگئی جبکہ کاشت کی گئی تمام سبزیاں بھی پانی میں بہہ گئیں، 334 پولٹری فارمز اور 156 فش فارمز کو بھی نقصان پہنچا۔

سیلاب سے 6000 کلومیٹر سڑکیں پانی میں بہہ گئیں جبکہ 151 شہروں میں 2 کروڑ 60 لاکھ گھر تباہ ہوئے ہیں۔

ملک کا ایک لاکھ ستر ہزار مربع کلومیٹر علاقہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے جو دنیا کے 75 ممالک سے زیادہ ہے۔

سیلاب کے نتیجے میں 1330 سے زائد افراد جاں بحق اور 13 ہزار ایک سو اٹھاسی زخمی ہیں جبکہ 26 لاکھ مویشی سیلاب کی نذر ہوئے ہیں۔

بے گھر ہونے والے 10 لاکھ افراد کو سیلاب سے پیدا ہونے والی بیماریوں جبکہ ساٹھ لاکھ افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔

سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن سے منسلک این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیسزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد اور دیگر نقصانات کے نمبرز بڑھ سکتے ہیں۔

ہلاکتوں اور زخمیوں کی تفصیلات:

این ڈی ایم اے، صوبائی اور ضلعی اتھارٹیز نے سیلاب سے نقصانات کی تازہ تفصیلات سماء انویسٹی گیشن سیل کے ساتھ شیئر کی ہیں جس کے مطابق سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1330 سے زیادہ ہوچکی ہے۔ مرنے والوں میں 440 بچے اور 250 خواتین شامل ہیں۔

سیلاب سے سب سے زیادہ اموات سندھ میں ہوئیں جس کی تعداد 522 ہے جبکہ 8421 زخمی ہیں۔

دوسرے نمبر پر بلوچستان ہے جہاں 289 افراد جاں بحق اور 602 زخمی ہوئے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں 274 افراد لقمہ اجل بنے اور 851 زخمی ہیں، پنجاب میں 203 اموات ہوئیں اور 3935 زخمی ہیں۔

گلگلت بلتستان میں 22، آزاد کشمیر میں 47، اسلام آباد میں ایک شخص سیلاب یا مون سون سے جاں بحق ہوا۔

سڑکوں اور مواصلاتی نظام کو پہنچنے والا نقصان:

اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے ملک میں 6100 کلومیٹر سڑکیں، 356 چھوٹے اور بڑے پل، 36 چھوٹے ڈیمز تباہ ہوئے ہیں۔

گھر، اسکول اور اسپتال اور دیگر انفراسٹرکچر کی تباہی:

حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 30 لاکھ گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے جبکہ 2142 دکانیں، 1417 اسکول، 179 مساجد، 23 لائیبریریز، 123 مدارس، 114 کمیونٹی ہسپتال، 112 یونین کونسل دفاتر، 176 کمیونٹی سینٹرز اور 128 سرکاری دفاتر سیلاب سے جزوی متاثر ہوئے ہیں۔

لائیو اسٹاک:

سیلاب سے جہاں ایک طرف قیمتی جانی نقصان ہوا وہیں 26 لاکھ مویشی بھی بہہ گئے جن میں گائیں بکریاں، بھینسیں شامل ہیں۔ 21 اضلاع میں تقریباً 10 لاکھ مویشیوں کی جان سیلاب کے بعد پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے خطرے میں ہے، اس صورتحال نے ملک کی فوڈ سیکیورٹی کو خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

زراعت اور فصلوں کو پہنچنے والا نقصان:

سیلاب اور بارشوں سے 9 ملین ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ 11 ملین ایکڑ پر کاشت فصلوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 3 ایکڑ چاول، 60 لاکھ ایکڑ کپاس، 20 لاکھ ایکڑ گنا، 10 لاکھ ایکڑ مکئی، دالوں اور دیگر فصلوں سمیت جانوروں کیلئے کاشت کی گئی چارہ کی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں، حکام نے زرعی نقصانات کا اندازہ 1900 ارب روپے لگایا ہے۔

آبپاشی کے نظام اور منصوبوں کی تباہی:

سیلاب نے ملک کے آبپشی کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں 25 ہزار واٹر شیڈز تباہ ہوئے ہیں۔

پنجاب میں 2 لنک کینال متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب کے نتیجے میں 1300 ارب روپے لاگت کے 760 سے زائد آبپاشی منصوبے مکمل تباہ ہوگئے جس سے زرعی نظام خطرے میں پڑگیا ہے۔

سندھ میں 358 آبپاشی کے منصوبوں کو نقصان پہنچا ہے۔ خیبر پختونخوا میں 76، جنوبی پنجاب میں 189 منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔

سرکاری حکام کا ماننا ہے کہ حالیہ سیلاب ملکی تاریخ میں گزشتہ تباہ کن زلزلوں سے زیادہ بڑی آفت ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا بری طرح نشانہ بنا ہے جس کے باعث بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب، گلگت اور آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر سیلاب آیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں